resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: برتن کا ایک کنارہ سونے یا چاندی کا ہو اور دوسرا کنارہ کسی اور دھات کا ہوتو ایسے برتن استعمال کرنے کا حکم

(66234-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! اگر پینے کے برتن کے منہ کا کنارہ سونے سے بنا ہوا ہو تو کیا اس برتن سے پانی پینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر اس برتن کا صرف ایک حصہ سونے سے بنا ہوا ہو تو کیا حکم میں فرق آتا ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ سونے یا چاندی کے برتنوں کا استعمال شرعاً ناجائز ہے، اسی طرح ایسے پینے کے برتن کا استعمال بھی جائز نہیں جس کے منہ کا پورا کنارہ سونے یا چاندی سے بنا ہوا ہو، البتہ اگر برتن کے منہ کے کنارے کا کچھ حصہ سونے یا چاندی کا ہو اور کچھ حصہ کسی دوسری دھات، مثلاً: پیتل وغیرہ کا ہو تو اس صورت میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک سونے یا چاندی کے بجائے دوسری دھات والے حصے سے منہ لگا کر برتن استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ استعمال کے دوران سونے یا چاندی کے حصے سے منہ، ہاتھ یا جسم کا کوئی دوسرا عضو نہ لگے، جبکہ حضرت امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ صورت بھی ناجائز ہے۔ تاہم فتاویٰ ہندیہ میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو راجح اور زیادہ معتبر قرار دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (كتاب الكراهية، 334/5، ط:دار الفكر)
يكره الأكل والشرب والأدهان والتطيب في آنية الذهب والفضة للرجال والصبيان والنساء كذا في السراجية ... ولا بأس بالأكل والشرب من إناء مذهب ومفضض إذا لم يضع فاه على الذهب والفضة، وكذا المضبب من الأواني والكراسي والسرير إذا لم يقعد على الذهب والفضة، وكذا في حلقة المرآة من الذهب والفضة، وكذا المجمر واللجام والسرج والثفر والركاب إذا لم يقعد عليه، وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه كره جميع ذلك وقيل: محمد - رحمه الله تعالى - معه وقيل: مع أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في التمرتاشي. في الزاد والصحيح قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في المضمرات.

فتاویٰ عثمانیہ: (313/10،ط: العصر اکیڈمی)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things