سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ میں جہاں ملازمت کرتی ہوں، وہاں میرے ساتھ ایک ہندو خاتون بھی کام کرتی ہیں، ہم دونوں کی عمر ایک جیسی ہے اور ہماری تقرری بھی ایک ہی وقت میں ہوئی تھی، اس لیے ہمارا ایک گروپ بن گیا ہے اور ہم عموماً ساتھ ہی رہتی ہیں۔ لنچ کے وقت بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم دونوں مل کر کھانا منگواتے ہیں، کبھی ہم کھانے کے پیسے آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور کبھی وہ پیسے دے دیتی ہیں اور کبھی میں دے دیتی ہوں۔ ہم عموماً ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتی ہیں اور ایک ہی کپ سے پانی بھی پیتی ہیں۔
اس حوالے سے مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ:
1) کیا کسی غیر مسلم کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا اور ایک ہی کپ سے پانی پینا شرعاً جائز ہے؟
2) کیا غیر مسلم کی کمائی سے خریدی ہوئی کوئی چیز، خواہ وہ تحفہ ہو یا اس کے منگوائے ہوئے کھانے کی صورت میں ہو، استعمال کرنا یا کھانا شرعاً جائز ہے؟
جواب: 1) ہندوؤں کے ساتھ کھانے پینے سے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر ہندو کے ہاتھ اور منہ پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو اور کھانا حلال ہو اور برتن بھی پاک ہو تو ان کے ساتھ ایک برتن میں کبھی کبھار کھانا کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن کفار کے ساتھ کھانے پینے میں مداومت اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ اس سے رفتہ رفتہ ان کے ساتھ بے تکلفی اور قلبی تعلق بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جو دینی اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ ایسے میل جول سے اجتناب کرے جو دینی معاملات میں کفار کے مذہبی شعائر سے قلبی وابستگی کا سبب بنے۔
2) غیر مسلم کی کمائی سے خریدی ہوئی چیز استعمال کرنا، اس کا تحفہ قبول کرنا یا اس کے منگوائے ہوئے کھانے کو کھانا بھی شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ وہ چیز بذاتِ خود حلال ہو اور اس کا تعلق ان کے مذہبی تہوار سے نہ ہو، لہٰذا اگر مذکورہ ہندو خاتون اپنی جائز کمائی سے کھانا منگواتی ہو یا کوئی جائز تحفہ دیتی ہو تو اسے قبول کرنا اور استعمال کرنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (آل عمران، الایة: 28)*
لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرo
*صحیح البخاری: ( بَابُ قَبُولِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، رقم الحدیث:2615، ط: دار طوق النجاة)*
وقال ابو هريرة: عن النبي صلى الله عليه وسلم، هاجر إبراهيم عليه السلام بسارة، فدخل قرية فيها ملك او جبار، فقال: اعطوها آجر، واهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة فيها سم، وقال ابو حميد: اهدى ملك ايلة للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء وكساه بردا، وكتب له ببحرهم.
*صحیح البخاری: (بَابُ الْهَدِيَّةِ لِلْمُشْرِكِينَ، رقم الحدیث:2619، ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، قال: حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال:" راى عمرحلة على رجل تباع، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: ابتع هذه الحلة تلبسها يوم الجمعة، وإذا جاءك الوفد، فقال: إنما يلبس هذا من لا خلاق له في الآخرة، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم منها بحلل، فارسل إلى عمر منها بحلة، فقال عمر: كيف البسها وقد قلت فيها ما قلت؟ قال: إني لم اكسكها لتلبسها تبيعها او تكسوها، فارسل بها عمر إلى اخ له من اهل مكة قبل ان يسلم.
*الھندیة: (23/1، ط: دار الفکر)*
سؤر الآدمي طاهر ويدخل في هذا الجنب والحائض والنفساء والكافر إلا سؤر شارب الخمر ومن دمي فوه إذا شرب على فور ذلك فإنه نجس وإن ابتلع ريقه مرارا طهر فمه على الصحيح كذا في السراج الوهاج۔
*الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (100/24، ط: انوار القرآن، بشاور)*
ذهب الحنفية إلى تقسيم الأسآر إلى أربعة أنواع:
النوع الأول: سور متفق على طهارته وهو سؤر الآدمي بجميع أحواله مسلما كان أو كافرا، صغيرا كان أو كبيرا، ذكرا أو أنثى، طاهرا أو جنبا أو حائضا أو نفساء۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی