resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: تین سے زائد کپڑے سلوانا

(66221-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرا ایک دوست ہے، چند دن پہلے کپڑوں کی کثرت کے بارے میں بحث شروع ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہر انسان کے لیے تین سے زائد کپڑوں کے جوڑے استعمال کرنا شرعی طور پر درست نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر چوتھا جوڑا سلوایا ہے تو اس کو اگر جمعے کی نماز کے لیے پہن لیا جائے تو گناہ گار نہیں ہوگا اور اگر جمعے کی نماز کے علاوہ پہن لیا تو گناہ گار ہوگا، کیا واقعی تین جوڑوں سے زائد کپڑے استعمال کرنا، پہن لینا یا سلوانا شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے؟

جواب: واضح رہے کہ دین اسلام میں کپڑوں کی تعداد کی (کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ) کوئی حد نہیں بیان کی گئی ہے، آدمی اپنی ضرورت کے مطابق مختلف تعداد میں کپڑے سلوا سکتا ہے، البتہ لباس کے بارے میں کچھ بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں جن کی پاسداری کرنا ہر حال میں ضروری ہے۔ کپڑوں کے بارے میں کچھ خرابیاں بہت عام ہیں، مثلاً: دکھاوا، تکبر، خودپسندی اور دوسروں کو کم تر ظاہر کرنا، ان خرابیوں سے بچنا ازحد ضروری ہے، نیز کپڑے خریدنے یا بنوانے میں اسراف اور فضول خرچی سے بچنے کا بھی خاص رکھنا چاہیے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ مذکورہ بالا خرابیوں سے بچتے ہوئے اپنے استعمال کے لیے تین سے زائد کپڑے سلواتے ہیں تو شرعاً ایسا کرنا جائز ہے، اور ان نئے کپڑوں کا جمعہ کے لیے پہننا بھی ضروری نہیں ہے، آپ یہ نئے کپڑے کسی دوسرے موقع پر بھی پہن سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (سورۃ الاعراف، رقم الآیۃ:26)*
يَا بَنِىٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِىْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذٰلِكَ مِنْ اٰيَاتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ O

*سنن ابن ماجه: (رقم الحدیث: 3605، ط: دارالجیل)*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا وَاشْرَبُوا , وَتَصَدَّقُوا , وَالْبَسُوا , مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ , أَوْ مَخِيلَةٌ".

*و فیه ایضاً: (رقم الحدیث: 3607، ط: دارالجیل)*
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ الْمُهَاجِرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا , أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things