سوال:
میں نے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ ضیائے وقت ناجائز ہے تو کیا ہر صورت میں ضیائے وقت نا جائز ہے اور ضیائے وقت کی 100 ہزاروں صورتیں نکلتی ہے تو کیا ہر صورت میں وقت کا ضائع کرنا ناجائز ہوگا یا کچھ صورتیں اس کی جائز کی بھی ہیں؟
اور ضیائے وقت کی ایک پروپرلی تعریف کیا ہوگی کہ جس تعریف کے مطابق بندہ پہچان سکے کہ کہ جو اس تعریف پر اتر جائے وہ گنہگار ہوگا؟
اور عام طور پر جو ہمارے سوسائٹی اور معاشرے میں وقت کا ضائع کرنا جو دیکھا جاتا ہے تو کیا وہ بھی ناجائز ہے جیسے گپے لڑانا، چوراہے پر بیٹھ کے موبائل کو یوں ہی اسکرول کرتے رہنا اور بھی بہت ساری صورتیں ہیں، برائے کرم اس کا مدلل جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
جواب: واضح رہے کہ وقت کی اہمیت اور اسے ضائع کرنے کے متعلق شرعی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے ضیاعِ وقت کی یہ تعریف کی جاسکتی ہے کہ "انسان اپنے وقت اور عمر کو ایسے قول، فعل یا مشغلے میں صرف کرے جس میں اس کا کوئی دنیوی یا اخروی فائدہ نہ ہو، یعنی نہ وہ اجر و ثواب کا باعث ہو اور نہ ہی صحت، روزی اور حقوق کی ادائیگی وغیرہ میں مفید ہو یا جس کے کرنے سے شرعی فرائض و واجبات میں کوتاہی اور گناہ کا ارتکاب ہوتا ہو"
لہٰذا فضول وقت ضائع کرنا یا موبائل کو بلا مقصد اسکرول کرتے رہنا اپنے قیمتی وقت اور عمرِ عزیز کو برباد کرنا ہے، بلکہ یہ نعمتِ الٰہی (وقت و صحت) کی ناشکری اور لایعنی مشغلہ ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور فکرِ آخرت سے غافل کردیتا ہے۔
البتہ جائز تفریح اور آرام ضیاعِ وقت کی مذموم صورتوں میں داخل نہیں ہوگی، بشرطیکہ ان میں کوئی خلافِ شرع امر نہ ہو اور ان میں مشغولیت کی وجہ سے فرائض و واجبات میں کوتاہی واقع نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح البخاري: (رقم الحديث: 6473، 100/8، ط: دار طوق النجاة)
عن وراد كاتب المغيرة بن شعبة : «أن معاوية كتب إلى المغيرة أن اكتب إلي بحديث سمعته من رسول الله ﷺ قال: فكتب إليه المغيرة إني سمعته يقول عند انصرافه من الصلاة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير ثلاث مرات،» قال: وكان ينهى عن قيل وقال، وكثرة السؤال، وإضاعة المال، ومنع وهات، وعقوق الأمهات، ووأد البنات. وعن هشيم: أخبرنا عبد الملك بن عمير قال: سمعت ورادا يحدث هذا الحديث عن المغيرة، عن النبي ﷺ.
سنن الترمذي: (رقم الحديث: 2318، 148/4، ط: دار الغرب الاسلامي)
عن علي بن حسين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه».
وهكذا روى غير واحد من أصحاب الزهري، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث مالك مرسلا، وهذا عندنا أصح من حديث أبي سلمة، عن أبي هريرة، وعلي بن حسين لم يدرك علي بن أبي طالب.
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (رقم الحديث: 9390، 269/5، ط: مكتبة القدسي)
عن عطاء بن أبي رباح قال: رأيت جابر بن عبد الله وجابر بن عبيد الله الأنصاري يرتميان، فمل أحدهما فجلس فقال له الآخر: كسلت سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «كل شيء ليس من ذكر الله - عز وجل - فهو لهو أو سهو، إلا أربع خصال: مشي الرجل بين الغرضين، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، وتعليم السباحة».
رواه الطبراني في الكبير والأوسط والبزار، ورجال الطبراني رجال الصحيح خلا عبد الوهاب بن بخت وهو ثقة.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی