سوال:
میں نے اپنے سمسٹر کے تمام امتحانات میں نقل کی اور اسی بنیاد پر ڈگری حاصل کی، اس کے بعد میں نے ایک انٹرنس امتحان دیا، جس میں شرکت کے لیے میری ڈگری بطور اہلیت ضروری تھی، میں نے یہ انٹرنس امتحان بغیر نقل کے پاس کیا اور منتخب ہوگیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے میں نے کسی دوسرے شخص کا حق لیا ہے؟ مثلاً: اگر کسی انٹرنس امتحان میں بی ٹیک کے چوتھے سال کے طلبہ کے لیے کم از کم 75 فیصد نمبر ہونا ضروری ہوں اور دو افراد کا انتخاب ہونا ہو تو میں نے اپنی ڈگری امتحانات میں مکمل نقل کے ذریعے حاصل کی، جس کی وجہ سے میرے نمبر 75 فیصد سے زیادہ ہوگئے اور میں ان دو منتخب افراد میں شامل ہوگیا، کیا اس طرح میں نے کسی دوسرے شخص کا حق مارا ہے؟
اسی طرح ملازمت کے معاملے میں بھی اگر کمپنی میں درخواست دینے کے لیے میری ڈگری اور مخصوص نمبروں کی شرط تھی، جس کی بنیاد پر میں امتحان یا انٹرویو میں بیٹھنے کا اہل ہوا، لیکن مجھے ملازمت دراصل اپنی صلاحیت اور مہارت کی بنیاد پر ملی تو کیا ایسی صورت میں بھی میں نے کسی دوسرے شخص کا حق لیا ہے؟
جواب: امتحانات میں نقل کرنا جعل سازی اور بد دیانتی ہے، جس سے توبہ اور استغفار کرنا ضروری ہے، نیز نقل کی بنیاد پر 75 فیصد نمبر حاصل کرکے ایسی جگہ منتخب ہونا جہاں صرف دو لوگ ہی منتخب ہوسکتے تھے، اس میں اصل مستحق شخص کا حق مارنے کا گناہ بھی ہوگا، اور اس کا تعلق حقوق العباد سے بھی ہے، اس لیے اس سے توبہ استغفار کے ساتھ جس قدر ممکن ہوسکے اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔
جہاں تک نقل کردہ ڈگری کی بنیاد پر حاصل کردہ نوکری کا تعلق ہے تو ایسی ڈگری کی بنیاد پر حاصل کردہ نوکری اور اس سے آمدنی کا حکم یہ ہے کہ اگر اس نوکری کے لیے آپ میں مطلوبہ اہلیت موجود ہے، اور آپ اپنا مطلوبہ کام دیانت داری سے کرتے ہیں تو اس کی تںخواہ حلال ہے، تاہم اگر آپ میں اس کام کی اہلیت نہیں، یا آپ اپنا کام دیانت داری سے نہیں کرتے تو اس صورت میں بددیانتی کے بقدر تنخواہ حرام ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (النساء، الآية: 58)
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا ۔۔۔ الخ
تفسير ابن كثير: (143/3، ط: ابن الجوزي)
۔۔۔ يخبر تعالى أنه يأمر بأداء الأمانات إلى أهلها. وفي حديث الحسن، عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أدِّ الأمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك» رواه الإمام أحمد وأهل السنن، وهذا يعم جميع الأمانات الواجبة على الإنسان من حقوق الله عز وجل على عباده من الصلوات والزكوات والصيام والكفارات والنذور وغير ذلك مما هو مؤتمن عليه ولا يطلع عليه العباد، ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغير ذلك مما يأتمنون به بعضهم على بعض من غير اطلاع بينة على ذلك، فأمر الله عز وجل بأدائها، فمن لم يفعل ذلك في الدنيا أخذ منه ذلك يوم القيامة، كما ثبت في الحديث الصحيح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لتؤدن الحقوق إلى أهلها حتى يقتص للشاة الجماء من القرناء».
وقال ابن أبي حاتم: حدثنا محمد بن إسماعيل الأحمسي، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن السائب، عن زاذان، عن عبد الله بن مسعود، قال: إن الشهادة تكفر كل ذنب إلا الأمانة، يؤتى بالرجل يوم القيامة، وإن كان قتل في سبيل الله، فيقال: أد أمانتك، فيقول: فأنى أؤديها وقد ذهبت الدنيا؟ فتمثل له الأمانة في قعر جهنم فيهوي إليها فيحملها على عاتقه، قال: فتنزل عن عاتقه فيهوي على أثرها أبد الآبدين. قال زاذان: فأتيت البراء فحدثته، فقال: صدق أخي: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾۔۔۔إلخ.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی