resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: یومِ آزادی منانے کے شرعی آداب اور احکام

(57383-No)

سوال: مفتی صاحب! ہمارے ملک پاکستان میں ہر سال 14 اگست کے موقع پر یومِ آزادی منایا جاتا ہے، اس دن گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور عمارتوں پر قومی جھنڈے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، ملی نغمے چلائے جاتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، آتش بازی کی جاتی ہے، نوجوان لڑکے ون ویلنگ کر رہے ہوتے ہیں، بائیکوں کے سائلنسر نکال کر شور شرابہ کر رہے ہوتے ہیں، باجے بجائے جا رہے ہوتے ہیں اور بعض مقامات پر موسیقی، مخلوط اجتماعات، رقص، فضول خرچی اور دیگر غیر شرعی امور بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ:
1) قومی جھنڈا یا جھنڈیاں لگانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
2) ملی نغمے سننے یا بجانے کی کیا حیثیت ہے؟
3) یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کی کیا شرعی حیثیت ہے؟
4) اگر ان تقریبات میں غیر شرعی امور شامل ہوں تو ان میں شرکت یا تعاون کا کیا حکم ہوگا؟
5) ون ویلنگ، بائیکوں کے سائلنسر نکال کر شور شرابہ کرنے اور باجے بجانے والوں کے لیے کیا حکم ہے؟
6) ایک مسلمان کو 14 اگست کے موقع پر کن امور سے اجتناب کرنا چاہیے اور کن حدود و آداب کا لحاظ رکھنا چاہیے؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اور انمول نعمت ہے، اور وطنِ عزیز پاکستان برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں اور طویل جدوجہد کے بعد اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں یومِ آزادی کے متعلق آپ کے سوالات کے جوابات ذیل میں پیشِ خدمت ہیں:
1) اپنے وطن سے محبت کا اظہار ایک فطری جذبہ ہے، اور قومی پرچم لہرانا اس کی ایک جائز صورت ہے، لہٰذا گھروں، دکانوں، دفاتر یا گاڑیوں پر قومی پرچم لگانا شرعاً مباح (جائز) ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف، ریا، نمائش یا تکبر کا پہلو نہ ہو، البتہ پلاسٹک یا کاغذ کی وہ چھوٹی جھنڈیاں جو بڑی تعداد میں خرید کر چند گھنٹوں بعد سڑکوں، گلیوں، نالیوں یا قدموں تلے روندی جاتی ہیں، ان کا استعمال مناسب نہیں؛ کیونکہ اس میں قومی پرچم کی بے حرمتی بھی ہے اور مال کا ضیاع بھی، جبکہ قرآنِ کریم میں اسراف اور فضول خرچی سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔
2) ایسے اشعار یا ترانے جن میں وطن سے محبت، ملک کی سلامتی کی دعا، قومی وحدت، اسلامی اقدار اور اسلاف کی قربانیوں کا تذکرہ ہو، ان کا پڑھنا یا سننا اپنی ذات کے اعتبارسے جائز ہے، بشرطیکہ وہ آلاتِ موسیقی سے پاک ہوں، لیکن اگر ان کے ساتھ موسیقی، ساز یا دیگر آلاتِ لہو استعمال کیے جائیں، جیسا کہ عموماً رائج ہے تو ان کا بجانا اور سننا شرعاً ناجائز ہوگا۔
3) ایسی تقریبات جن میں قیامِ پاکستان کے اسلامی مقاصد کو اجاگر کیا جائے، شہداء اور اکابرینِ ملت کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے، وطن کی سلامتی اور استحکام کے لیے دعائیں کی جائیں، اور شکرانے کے نوافل یا دیگر دینی سرگرمیوں کا اہتمام ہو، ان میں شرکت کرنا جائز ہے۔
4) اگر یومِ آزادی کی تقریبات میں غیر شرعی امور شامل ہوں، مثلاً: مرد و عورت کا اختلاط، بے پردگی، موسیقی، رقص، ہلڑ بازی، فحش حرکات یا نمازوں کی ادائیگی میں غفلت تو ایسی تقریبات میں شرکت کرنا، ان کا حصہ بننا یا کسی بھی قسم کا تعاون کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)
"نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔"(سورۃ المائدۃ: 2)
5) ون ویلنگ، خطرناک ڈرائیونگ، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر شور مچانا، باجے بجانا اور دیگر ایسے افعال شرعاً، اخلاقاً اور قانوناً ناجائز ہیں، اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں:
الف) جانوں کو خطرے میں ڈالنا: ون ویلنگ اور خطرناک ڈرائیونگ اپنی اور دوسروں کی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ)"اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔"(البقرۃ: 195)

ب) دوسروں کو تکلیف پہنچانا: غیر ضروری شور و غل سے بیماروں، بزرگوں، بچوں، طلبہ اور آرام کرنے والوں کو اذیت پہنچتی ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده»"کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں" لہٰذا ایسی تمام حرکات سے اجتناب کرنا شرعاً ضروری ہے۔
6) ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ یومِ آزادی کو محض تفریح یا شور و ہنگامے کا دن بنانے کے بجائے یومِ شکرانہ اور یومِ تجدیدِ عہد کے طور پر منائے، اس دن درج ذیل امور کا اہتمام کرنا مناسب ہے:
• اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور شکرانے کے نوافل پڑھنا۔
• وطنِ عزیز کے امن، استحکام، سلامتی اور اسلامی تشخص کے لیے خصوصی دعائیں کرنا۔
• نئی نسل کو قیامِ پاکستان کی تاریخ، اکابرین کی قربانیوں اور اسلامی مقاصد سے آگاہ کرنا۔
• غریبوں، مسکینوں اور مستحقین کی مالی مدد اور خدمت کرنا۔
• قومی املاک کی حفاظت اور صفائی کا اہتمام کرنا۔
اسی طرح درج ذیل امور سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے:
• موسیقی، رقص اور دیگر غیر شرعی سرگرمیاں۔
• بے پردگی اور مرد و عورت کا غیر شرعی اختلاط۔
• فضول خرچی اور اسراف۔
• سڑکیں بند کر کے عوام کو تکلیف دینا۔
• ون ویلنگ، آتش بازی، شور و غل اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی۔
• نمازوں میں غفلت یا ان کا ترک کرنا۔
الغرض حقیقی آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی، شریعتِ اسلامیہ کی پابندی اور قوانین کی پاسداری کے ساتھ اپنی خوشی کا اظہار کرے اورکوئی کام اس دن اللہ اور رسول ﷺ کی مرضی کے خلاف نہ کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القران الکریم: (المائدة، الایة: 2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ...الخ

التفسیرِ الکبیر: (البقرۃ، الایة: 40، 477/3، ط: دار احیاء التراث العربی)
"واعلم أن نعم الله تعالى على بني إسرائيل كثيرة (أ) استنقذهم مما كانوا فيه من البلاء من فرعون وقومه وأبدلهم من ذلك بتمكينهم في الأرض وتخليصهم من العبودية كما قال: ونريد أن نمن على الذين استضعفوا في الأرض ونجعلهم أئمة ونجعلهم الوارثين ونمكن لهم في الأرض ونري فرعون وهامان وجنودهما منهم ما كانوا يحذرون [القصص: 5، 6] . (ب) جعلهم أنبياء وملوكا بعد أن كانوا عبيدا للقبط فأهلك أعداءهم وأورثهم أرضهم وديارهم وأموالهم كما قال: كذلك وأورثناها بني إسرائيل [الشعراء: 59] (ج) أنزل عليهم الكتب العظيمة التي ما أنزلها على أمة سواهم كما قال: وإذ قال موسى لقومه يا قوم اذكروا نعمت الله عليكم إذ جعل فيكم أنبياء وجعلكم ملوكا وآتاكم ما لم يؤت أحدا من العالمين [المائدة: 20).

سنن أبي داود: (باب كراهية الغناء والزمر، 435/4، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)
"حدثنا مسلم بن إبراهيم قال: نا سلام بن مسكين ، عن شيخ «شهد أبا وائل في وليمة، فجعلوا يلعبون يتلعبون يغنون، فحل أبو وائل حبوته وقال: سمعت عبد الله يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن ‌الغناء ينبت النفاق في القلب."

مرقاة المفاتيح: (كتاب اللباس، الفصل الثاني، 222/8، ط: مكتبة حنفية)
"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تشبه بقوم فهو منهم» " رواه أحمد، وأبو داود. (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب.

الشرح الممتع على زاد المستقنع: (30/5)
القول الراجح الذي لا شك فيه أن التشبه بالكفار حرام، ولكن لا بد أن نعرف ما هو التشبه؟ وهل يشترط قصد التشبه؟ فالجواب: أن التشبه أن يأتي الإنسان بما هو من خصائصهم بحيث لا يشاركهم فيه أحد كلباس لا يلبسه إلا الكفار، فإن كان اللباس شائعاً بين الكفار والمسلمين فليس تشبهاً، لكن إذا كان لباساً خاصاً بالكفار، سواء كان يرمز إلى شيء ديني كلباس الرهبان، أو إلى شيء عادي لكن من رآه قال: هذا كافر بناء على لباسه فهذا حرام.وهل يشترط قصد التشبه أو لا؟ الجواب: قد يقول قائل: إنه يشترط قصد التشبه؛ لأنه قال: «من تشبه» وتفعّل تقتضي فعلاً وقصداً، ولكن من نظر إلى العلة عرف أنه متى حصل التشابه ثبت الحكم، ولهذا نص شيخ الإسلام رحمه الله على أنه متى حصلت المشابهة، ولو بغير قصد، ثبت الحكم؛ وذلك لأن العلة لا تختلف بالقصد وعدمه، فالعلة أن من رأى هذا الرجل قال: هذا كافر، وهذا لا يشترط فيه القصد.

صحيح البخاري: (11/1، ط: دار طوق النجاة)
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه»

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things