resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اے سی (AC)، بائیک (Bike) اور ٹی وی (TV) والے مقروض کو زکوۃ دینے کا حکم(3737-No)

سوال: مفتی صاحب ! ایک آدمی، جو پراپرٹی ڈیلر (Property dealer) ہے، اور اپنے ذاتی گھر، ٹی وی (TV)، موٹر سائیکل اور ایک عدد دکان کا بھی مالک ہے، لیکن کافی بڑی رقم کا مقروض ہے، تو جناب ! کیا اس طرح کے شخص کو زکوة دی جا سکتی ہے؟

جواب: واضح رہے کہ مذکورہ شخص کے قرض کی رقم کو نکالنے کے بعد، اگر اس کی ملکیت میں ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا مال (مثلاً نقدی، سونا، چاندی، مالِ تجارت وغیرہ کا مجموعہ)، یا اتنا سامان (مثلاً ضرورت سے زائد گھر، زمین، پلاٹ، استعمال سے زائد گاڑی، استعمال سے زائد موبائل، استعمال ہونے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے اور برتن وغیرہ) ہو، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس شخص کے لیے مستحقِ زکوۃ نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر ضرورت اصلیہ سے زائد مال یا سامان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو، تو پھر وہ شخص مستحقِ زکوۃ کہلائے گا، اور اس کو زکوۃ دینا جائز ہوگا۔
نوٹ: 1) ٹی وی ضرورت سے زائد سامان کے زمرے میں آتا ہے، لہذا اس کی مالیت کا اندازہ لگایا جائے گا، اگر ٹی وی کی اپنی مالیت اکیلے یا دیگر ضرورت و استعمال سے زائد اشیاء کے ساتھ ملاکر نصاب کے بقدر ہوجائے، تو مذکورہ شخص کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہوگا۔
نوٹ: 2) اے سی (AC)، اور بائیک (Bike) ضرورت و استعمال کی چیزیں ہیں۔ لہذا ان کا شمار ضرورت اصلیہ کی اشیاء میں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (347/2)
"(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن له نصاب سائمة لاتساوي مائة درهم.
(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة؛ لما روي عن الحسن البصري قال: كانوا _ يعني: الصحابة _ يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.
وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لاتكفيه وعياله أنه فقير، ويحل له أخذ الصدقة عند محمد، وعند أبي يوسف لايحل. وكذا لو له كرم لاتكفيه غلته ... وفيها عن الصغرى: له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لايسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح. وفيها: سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاث آلاف ولاتكفي لنفقته ونفقة عياله سنة؟ يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفاً، وعليه الفتوى، وعندهما لايحل اه ملخصاً".

و فیہ ایضا: (باب المصرف، 283/3، ط: زکریا)
مصرف الزکاۃ ہو فقیر … ومسکین … وعامل … ومدیون لا یملک نصاباً فاضلاً عن دینہ، … وفي سبیل اللّٰہ وہو منقطع الغزاۃ …، وابن السبیل یصرف إلی کلہم أو إلی بعضہم تملیکًا لا إباحۃ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Maqrooz, Maqruz, ko, zakat, dainay, dainey, daine, ka, hukm, hukum, Ruling on paying zakat to the debtor, Rules of Zakat

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat