عنوان: "اللہ تعالی کو پشتو نہیں آتی" (العیاذ باللہ) کہنے والے کا حکم(103741-No)

سوال: آج دفتر میں ایک شخص نے حاضرین کو ہنسانے کیلئے ایک پٹھان پر جگت مارتے ہوئے یہ الفاظ کہے: "پٹھانوں کی دعا قبول نہیں ہوتی" پھر وجہ بیان کرتے ہوئے کہا "کیونکہ ﷲ کو پشتو سمجھ آتی نہیں" (استغفراﷲ) پھر دوسرا جملہ اُس نے یہ کہا: "جہنم کے دروازے بند ہو چکے ہیں" پھر وجہ بیان کرتے ہوئے کہا "کیونکہ اس کے دادا نے اندر جا کر کنڈی لگا دی" اس شخص کے مندرجہ بالا جملے ادا کرنے پر شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ کلمات کفر ہیں اور کلمات کفر خواہ کھیل کود اور ہنسی مذاق ہی کے طور پر کیوں نہ ہو،  کہنے سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشادفرماتے ہیں :

یَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُہُمۡ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلِ اسۡتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ۔لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ۔
لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ ؕ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَۃًۢ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ۔
(سورة توبة آیت نمبر : 64، 65، 66)

ترجمہ:
منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے، جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا دے ۔ کہہ دیجئے کہ مذاق اڑاتے رہو، یقیناً اللہ تعالٰی اسے ظاہر کرنے والا ہے، جس سے تم ڈر دبک رہے ہو، اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کرلیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے ۔
لہذا ان آیات سے ثابت ہوا کہ ہنسی مذاق میں کلمات کفر کہنےسے بھی آدمی کافر ہوجاتا ہے، اس لیے ان الفاظ کے کہنے والے شخص کو چاہیے کہ ایسے الفاظ سے توبہ کرے اور تجدید ایمان کرے اور شادی شدہ ہے تو نئے مہرکے ساتھ تجدید نکاح کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الدرالمختار:

ﻭﻓﻲ اﻟﻔﺘﺢ ﻣﻦ ﻫﺰﻝ ﺑﻠﻔﻆ ﻛﻔﺮ اﺭﺗﺪ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻌﺘﻘﺪﻩ ﻟﻻﺳﺘﺨﻔﺎﻑ ﻓﻬﻮ ﻛﻜﻔﺮ اﻟﻌﻨﺎﺩ۔(ج:4، ص:222،ط: دارالفکر بیروت۔)

وفی الشامیة تحتہ:
ﻗﻮﻟﻪ ﻣﻦ ﻫﺰﻝ ﺑﻠﻔﻆ ﻛﻔﺮ) ﺃﻱ ﺗﻜﻠﻢ ﺑﻪ ﺑﺎﺧﺘﻴﺎﺭﻩ ﻏﻴﺮ ﻗﺎﺻﺪ ﻣﻌﻨﺎﻩ۔
(ج:4، ص:222،ط: دارالفکر بیروت۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 261

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.