resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: متوسط گھرانے کی عورت کو علیحدہ گھر فراہم کرنے کا حکم

(37694-No)

سوال: میری شادی 2017 میں ہوئی تھی اور میرا ایک بیٹا ہے جس کی عمر اب سات سال ہے اور وہ آٹزم (Autism Spectrum Disorder) کا شکار ہے۔ ہماری ازدواجی زندگی ابتدا ہی سے مسائل کا شکار رہی، اور میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میرا رویہ بھی درست نہیں تھا۔ 2024 میں میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی اور طلاق کا مقدمہ دائر کیا، تاہم بعد میں مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور ہم دوبارہ صلح کرکے اکٹھے رہنے لگے۔
اب اس کا رویہ ایسا ہو گیا ہے کہ وہ ہر بات میں حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ اسے الگ گھر دیا جائے، جسے وہ اپنا شرعی حق قرار دیتی ہے۔ میں نے پچھلے ایک سال سے خود کو بہت بدل لیا ہے، نہ مار پیٹ ہے اور نہ بدزبانی، لیکن اس کے برعکس وہ بالکل بدل چکی ہے۔ میں نے اپنی بہنوں کو بھی گھر آنے سے روک دیا ہے، حالانکہ وہ میرے بوڑھے والدین (جو 70 سال سے زائد عمر کے ہیں) سے ملنے آتی تھیں۔
وہ ماضی کی باتیں بار بار دہراتی ہے، خامیاں نکالتی ہے اور میرے والدین کو بھی موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ گھر میں ایک ملازمہ ہے جو کھانا پکاتی ہے اور دوسری صفائی وغیرہ کے لیے ہے۔ اس کا اصل کام صرف میرے بیٹے کی تھیراپیز کا خیال رکھنا ہے اور صبح کے وقت میرے لیے چائے اور ناشتہ بنانا ہے۔ میری والدہ نابینا ہیں، اس لیے میرے والد خود اپنا اور والدہ کا ناشتہ بناتے ہیں۔ اب اس نے زندگی بہت مشکل بنا دی ہے اور الگ گھر کا مطالبہ کر رہی ہے۔
میں اکلوتا بیٹا ہوں اور مجھے ملائشیا میں پی ایچ ڈی میں داخلہ ملا ہے۔ میں نے اسے بتایا ہے کہ تین سے چار ماہ میں وہ بھی میرے ساتھ آجائے گی۔ والدین کے لیے میں نے ایک فل ٹائم ملازمہ رکھنے اور آن لائن مانیٹرنگ کیمرے لگوانے کا انتظام کیا ہے۔ اس کے باوجود اس کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ اخلاقی طور پر مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ میں آرام سے کھاؤں پیوں جبکہ میرے بوڑھے ماں باپ بیٹھے انتظار کر رہے ہوں کہ کچن خالی ہو تو وہ اپنا کھانا بنا سکیں۔
میں یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ کون سا شرعی حکم ہے؟ کیا یہی حکم معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاقوں کا سبب نہیں بن رہا؟ ہمارے دین میں ایسا حکم کیوں رکھا گیا جسے پاکستان میں عدالتوں میں بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ میں اپنے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جو اس وجہ سے سخت مشکلات میں ہیں اور ان کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
کبھی کبھی مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ اتنی بے حس ہے کہ تین سے چار ماہ پاکستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں، تو جب میں اسے بیرونِ ملک بلاؤں گا تو میرے ساتھ کیا ہوگا؟ مجھے ڈر ہے کہ وہ وہاں بھی میرے والدین پر پابندیاں لگائے گی کہ وہ ملائشیا نہ آئیں، حتیٰ کہ کبھی کبھار ملاقات کے لیے بھی نہیں۔ یہ سب میرے ایمان کو بھی متزلزل کر رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اسلام جیسا دین ایسا شرعی حکم کیسے دے سکتا ہے جو اب ایک مہلک ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔
تنقیح:
محترم! آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں:
1) کیا آپ بیوی کو علیحدہ گھر دینے کی استطاعت رکھتے ہیں؟
2) آپ کی بیوی کا تعلق کسی غریب یا درمیانہ طبقے کے خاندان سے ہے یا اعلیٰ اور مال دار گھرانے سے ہے؟ اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
جواب تنقیح:
1)میں اس وقت دو گھروں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک صحت مند زندگی فراہم کرنے کے لیے میں خود بھی کلفٹن کے علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہا ہوں، جو ایک مہنگا اور پوش علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
2)شادی کے وقت اس کے خاندان کی معاشی حیثیت متوسط طبقے کی تھی، لیکن شادی کے بعد اس کی دونوں بہنوں کی شادیاں اچھے اور خوشحال خاندانوں میں ہو گئیں۔ اب وہ خود کو اپنی بہنوں سے موازنہ کرنے لگی ہے، کیونکہ دونوں بہنیں ملازمت بھی کر رہی ہیں اور مالی طور پر بہتر حالت میں ہیں۔ اسے یہ احساس ہے کہ میں نے اس کی ترقی روک دی ہے، جبکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ ہمارے بیٹے کی دیکھ بھال ضروری ہے جو آٹزم (Autistic) کا شکار ہے، ایک نارمل بچہ نہیں ہے اور اسے خاص توجہ اور وقت درکار ہے۔ اس لیے حقیقتاً اگر وہ کام کرنا بھی چاہے تو ہمارے بیٹے کی موجودہ حالت کی وجہ سے اس کے لیے یہ ذمہ داری نبھانا ممکن نہیں ہوگا۔

جواب: اگر میاں بیوی کی مالی حالت متوسط (درمیانے) درجہ کی ہو تو شوہر پر بیوی کو ایسا ایک الگ کمرہ (جس کو بوقت ضرورت تالا لگاسکے) اور اس کے ساتھ مستقل الگ سے ایسا باورچی خانہ، بیت الخلاء اور غسل خانہ فراہم کرنا لازم ہے جس میں شوہر کے دیگر رشتہ داروں کا عمل دخل نہ ہو، لیکن الگ سے گھر فراہم کرنا ضروری نہیں ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
نیز میاں بیوی کے ذمہ لازم ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوشش کریں اور اس بارے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ عورت کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ شوہر کے حقوق کی مکمل پاسداری کرے۔ شوہر، بچے اور ساس سسر کا خیال رکھے اور ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھے، اسے اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھے۔
عورت کو علیحدہ گھر فراہم کرنے کے بارے میں دارالافتاء الاخلاص سے تفصیلی فتویٰ جاری ہوا ہے، جسے اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں:
https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=33499

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (602/3، ط: دار الفکر)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) ... (وأهلها) ... (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر.
(قوله وأهلها) أي له منعهم من السكنى معها في بيته سواء كان ملكا له أو إجارة أو عارية.
(قوله بقدر حالهما) أي في اليسار والإعسار، فليس مسكن الأغنياء كمسكن الفقراء كما في البحر؛ لكن إذا كان أحدهما غنيا والآخر فقيرا؛ فقد مر أنه يجب لها في الطعام والكسوة الوسط، ويخاطب بقدر وسعه.
(قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا.
وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق، لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى - {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: ٦]- وينبغي اعتماده في زماننا هذا فقد مر أن الطعام والكسوة يختلفان باختلاف الزمان والمكان.... إذ لا شك أن المعروف يختلف باختلاف الزمان والمكان، فعلى المفتي أن ينظر إلى حال أهل زمانه وبلده، إذ بدون ذلك لا تحصل المعاشرة بالمعروف، وقد قال تعالى - {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: ٦].

کذا فی احسن الفتاوی: (476/5، ط: ایچ ایم سعید)

کذا فی امداد الاحکام: (884/2، ط: دار العلوم کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah