سوال:
السلام علیکم! چند سال پہلے ایک شخص ایک اسکول والے سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور اس نے یہ الفاظ کہے" اگر اس طالب علم کو کرکٹ میچ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تو میں نے قسم کیا ہے کہ آج اسکول میں میرا آخری دن ہوگا" اس نے اللہ کی ذات یا قرآن پاک پر قسم نہیں کھائی، بلکہ مندرجہ بالا " قسم" کے الفاظ کہے ہیں۔ کیا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے قسم کا فدیہ واجب ہوتا ہے کہ نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ یا قرآنِ پاک کا نام صراحتاً ذکر کیے بغیر صرف "قسم" کا لفظ استعمال کرنے سے بھی قسم منعقد ہوجاتی ہے، ، کیونکہ عرف میں اس سے اللہ تعالی کے نام کی قسم ہی مراد لی جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں یہ الفاظ: "اگر اس طالب علم کو کرکٹ میچ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تو میں نے قسم کیا ہے کہ آج اسکول میں میرا آخری دن ہوگا" کہنے سے قسم منعقد ہوگئی تھی، اور اس کے خلاف کرنے کی صورت میں قسم کھانے والے پر کفّارہ ادا کرنا واجب ہوگا۔
دلائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
البحر الرائق :(4/ 305، 307، ط: دار الكتاب الإسلامي)
(قوله: واليمين بالله تعالى والرحمن والرحيم وجلاله وكبريائه وأقسم وأحلف وأشهد، وإن لم يقل بالله ...)
وأما كونه حالفا بقوله أقسم، أو أحلف، أو أشهد، وإن لم يقل بالله فلأن هذه الألفاظ مستعملة في الحلف وهذه الصيغة للحال حقيقة وتستعمل للاستقبال بقرينة فجعل حالفا للحال والشهادة يمين قال الله تعالى {قالوا نشهد إنك لرسول الله} [المنافقون: 1] ثم قال {اتخذوا أيمانهم جنة} [المنافقون: 2] والحلف بالله هو المعهود المشروع وبغيره محظور فيصرف إليه وأشار إلى أنه لو قال: حلفت، أو أقسمت، أو شهدت بالله، أو لم يقل بالله فإنه يمين بالأولى وأطلق في كونه يمينا بلفظ المضارع فأفاد أنه لا يتوقف على النية كما في غاية البيان وذكر في الهداية خلافا فيه وصحح في التبيين أنه يكون يمينا بلا نية وأراد المصنف بهذه الألفاظ أن كلا منها يصلح أن يكون قسما فإن ذكر المقسم عليه انعقدت اليمين فيحنث إذا نقضها فتجب عليه الكفارة، وإلا فلا وقد ذكر محمد هذه الألفاظ كلها في الأصل، ثم قال بعدها فهذه كلها أيمان فإذا حلف بشيء منها ليفعلن كذا وكذا فحنث وجبت عليه الكفارة اه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی