سوال:
السلام علیکم! اللہ تعالی کو کاروبار میں شراکت دار بنا لیا جائے کہ اتنے فیصد اللہ تعالی کا ہوگا تو اس صدقے کی حیثیت نفلی ہوگی یا وہ منت کی قسم ہوگا کہ اس کوپورا کرنا لازم ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر متعیّن فیصد حصّہ صدقہ کرنے کو اپنے اوپر پر لازم نہ کیا گیا ہو، بلکہ صدقہ کرنے کا محض ارادہ کیا ہو تو اس ارادہ کو پورا کرنا باعثِ سعادت اور باعثِ اَجر و ثواب ہے، تاہم اس صورت میں نذر منعقد نہیں ہوگی، اور اپنی کمائی کا متعیّن فیصد حصّہ صدقہ کرنا لازم نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (الحدید، الآیة: 11)
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٓٗ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ o
بدائع الصنائع: (كتاب النذر، 81/5، ط: دار الكتب العلمية)
ﻓﺮﻛﻦ اﻟﻨﺬﺭ ﻫﻮ اﻟﺼﻴﻐﺔ اﻟﺪاﻟﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻫﻮ ﻗﻮﻟﻪ: "ﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﺷﺄﻧﻪ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻫﺬا ﻫﺪﻱ، ﺃﻭ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎﻟﻲ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎ ﺃﻣﻠﻚ ﺻﺪﻗﺔ، ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی