سوال:
مفتی صاحب! آپ کے جواب 37709 (https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=37709) پرمیرا یہ اشکال ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ "میں ہر معاملے میں فقہِ حنفی کی پیروی کروں گا" تو کیا "ہر معاملے میں" کا لفظ تکرار (یعنی بار بار خلاف ورزی پر الگ الگ کفارہ لازم ہونا) پر دلالت نہیں کرتا؟
کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ الفاظ تمام مسائل کو بار بار شامل کر رہے ہیں تو اگر وہ مختلف مواقع پر مختلف مسائل میں دوسرے مسلک کی پیروی کرے تو کیا ہر بار نئی خلاف ورزی شمار نہیں ہوگی؟براہ کرم اس نکتے کی وضاحت فرما دیں کہ اسے تکرار پر محمول کیوں نہیں کیا جاتا؟
جواب: عام طور پر ہر معاملے جیسے الفاظ سے ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ یہ تمام جزئیات پر محیط ہے، لہٰذا ہر جزئیہ کی خلاف ورزی پر الگ کفّارہ ہونا چاہیے، لیکن فقہِ حنفی کے قواعدِ یمین (قسم کے قوانین) کی روشنی میں معاملہ ایسا نہیں ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
"کل" (ہر) کا لفظ "افراد" کے لیے ہے، "تکرار" کے لیے نہیں، نحوی اور فقہی قاعدہ یہ ہے کہ لفظ "کل"(ہر) عام طور پر "عمومِ افراد" کے لیے آتا ہے، یعنی یہ بتانے کے لیے کہ قسم میں تمام مسائل شامل ہیں، لیکن یہ "عمومِ تکرار" (یعنی بار بار حنث ہونا) کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ جب اس نے کہا: "میں ہر معاملے میں پیروی کروں گا" تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے تمام مسائل کو ایک مجموعہ بنا کر ایک ہی قسم کے نیچے جمع کر دیا ہے، جیسے ہی اس نے کسی ایک معاملے میں خلاف ورزی کی، اس کی قسم کی سچائی ختم ہوگئی اور وہ "حنث" (قسم توڑنے والا) ہو گیا، کیونکہ فقہِ حنفی کا مسلّمہ قاعدہ ہے کہ قسم ایک بار شرط پائے جانے سے ختم ہو جاتی ہے، لہذا جب تک قسم میں کوئی ایسا لفظ نہ ہو، جو فعل کے بار بار ہونے کا تقاضا کرے (جیسے: "ہر بار"، "جب کبھی"، "جتنی مرتبہ")، تب تک قسم ایک بار ٹوٹنے کے بعد باقی نہیں رہتی۔
لفظ "ہر معاملہ" تو صرف یہ بتاتا ہے کہ قسم کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے، یہ نہیں بتاتا کہ قسم کتنی بار ٹوٹے گی۔
فقہاء کرام نے کلما" اور "کل" میں فرق لکھا ہے کہ"کلما" (جب کبھی/ہر بار) تکرارِ افعال کے لیے وضع کیا گیا ہے، اس لیے اس میں جتنی بار شرط پائی جائے گی، اتنی بار قسم ٹوٹے گی، جبکہ"کل"(ہر) عمومِ اسماء کے لیے ہے، یعنی یہ بتانے کے لیے کہ اس میں زید، عمر، بکر یا یہ مسئلہ، وہ مسئلہ سب شامل ہیں۔
*ایک مثال سے وضاحت*
اگر کوئی شخص قسم کھائے: "میں اس گھر کے ہر کمرے میں داخل نہیں ہوں گا"۔جیسے ہی وہ کسی ایک کمرے میں داخل ہوگا، اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفّارہ لازم ہوگا، اب اگر وہ پہلے کمرے سے نکل کر دوسرے یا تیسرے کمرے میں جائے تو دوبارہ کفّارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اس کی وہ قسم جو اس نے پورے گھر کے حوالے سے کھائی تھی، وہ پہلے داخلے سے ہی "ختم" (منحل) ہو چکی ہے۔ اب وہ شخص "حالف" (قسم کھانے والا) رہا ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*المبسوط للسرخسي: (6/ 130، ط: دار المعرفة - بيروت)*
كلمة " كل " تقتضي جميع الأسماء لا تكرار الأفعال، .....بخلاف كلمة كلما فإنها تقتضي تكرار الأفعال، وإنما قلنا ذلك؛ لأن مقتضى كلمة كل الجمع فيما يتعقبها، والذي يتعقب الكل الاسم دون الفعل يقال: كل رجل وكل امرأة، ولا يستقيم أن يقال: كل ضرب، وكل دخل والذي يتعقبه كلمة كلما الفعل دون الاسم يقال، كلما ضرب، وكلما دخل، ولا يقال: كلما زيد، وكلما عمرو.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (3/ 843، ط: دار الفكر-بيروت)*
(فلو فعله مرة أخرى لا يحنث) إلا في كلما.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی