resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنے کا حکم

(41937-No)

سوال: السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
محترم مفتی صاحب! اگر کوئی شخص قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ میں کسی شادی کی تقریب میں کبھی بھی نہیں جاؤں گا یا میں فلاں کام نہیں کرونگا تو اس قسم کا کفّارہ کیا ہوگا؟ ابھی اس نے یہ قسم توڑی نہیں مگر مستقبل میں ٹوٹنے کے امکانات بہرحال موجود ہے اور کچھ میں اس کو بہرحال جانا تو پڑے گا، اب اس سے پہلے کفارہ کا کیا طریقہ کار ہوگا اور اس پر توبہ استغفار کیا ہوگی؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ قرآن پاک اللہ پاک کا کلام ہے، بات بات پر اس پہ ہاتھ رکھنا اور پھر اس بات سے مکر جانا درست عمل نہیں ہے، اس لیے آئندہ ایسے عمل سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے، البتہ صرف قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی، قسم منعقد ہونے کے لیے الفاظِ قسم کا پایا جانا ضروری ہے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ شخص نے صرف قرآن پر ہاتھ رکھا ہے اور قسم کے الفاظ ادا نہیں کیے تو صرف ہاتھ رکھ کر سوال میں مذکورہ الفاظ کہنے سے قسم منعقد نہیں ہوئی، لہذا مذکورہ شخص کے شادی کی تقریب میں جانے سے اس پر کوئی کفّارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ قرآن پاک جیسی عظیم کتاب پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے کی وجہ سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

فتاویٰ الھندیۃ: (2/51، ط: مکتبۃ رشیدیۃ)
(وأما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته، وأما ركن اليمين بغيره فذكر شرط صالح، وجزاء صالح كذا في الكافي."

بدائع الصنائع: (3/5، ط: دارالکتب العلمیہ)
وأما ركن اليمين بالله تعالى فهو اللفظ الذي يستعمل في اليمين بالله تعالى وأنه مركب من المقسم عليه والمقسم به.

کذا فی فتویٰ جامعۃ بنوری تاؤن: (رقم الفتاویٰ: 144508102020)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows