عنوان:
رمی اور قربانی سے پہلے طواف زیارت کرنا کیسا ہے؟(3778-No)
سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! جو لوگ حج تمتع اور حج قران کرنے والے ہیں، کیا ان کے لئے رمی، قربانی اور بال کٹوانے کو ترتیب کے ساتھ کرنا ضروری ہے؟ یا اس بات کی اجازت ہے کہ وہ رمی کے بعد احرام کی حالت میں مسجد حرام جاکر طواف زیارت کر لیں اور پھر منی آکر قربانی اور بال کٹوا لیں؟
جواب: واضح رہے کہ جو شخص حج تمتع یا حج قران کرنے والا ہے، اس کے لیے تینوں چیزوں میں ترتیب واجب ہے، پہلے رمی کرے، پھر قربانی اور پھر بال کٹوائے، اگر ترتیب کے خلاف کرے گا، تو دم لازم ہوگا، البتہ ان تین چیزوں اور طواف زیارت کے درمیان ترتیب واجب نہیں، بلکہ سنت ہے، لہذا حاجی کا ان تین چیزوں سے بالترتیب فارغ ہوکر طواف زیارت کرنا سنت ہے، لیکن اگر کسی نے ان تین چیزوں سے پہلے طواف زیارت کر لیا، تو دم لازم نہیں ہوگا، مگر خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (24/3، ط: سعید)
اعلم أن ما یفعل في أیام النحر أربعۃ أشیاء: الرمي والنحر والحلق والطواف، وہٰذا الترتیب واجب عند أبي حنیفۃ ومالک وأحمد۔
الدر المختار: (588/3، ط: زکریا)
فیجب في یوم النحر أربعۃ أشیاء: الرمي، ثم الذبح لغیر المفرد، ثم الحلق، ثم الطواف لکن لا شيء علی من طاف قبل الرمي والحلق نعم یکرہ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Rami, aur, Qurbani, Qurbaani, Rame, say, se, pehlay, pehle, tawaf e ziarat, karna, kaisa, hay, Tawaf-e-ziarat, Tawaaf, ziarat,
How is it to perform Tawaf e Ziarat before stoning of devil and sacrifice, Tawaf-e-ziarat, Tawaaf, ziarat, sacrificing of animal, stoning, Iblees, Rami, Qurbani, Qurbaani, Slaughter