عنوان: "مجھے داڑھی کے نام سے نفرت ہے" کہنا شرعا کیسا ہے؟ (103834-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ہماری ایک دور کی رشتہ دار خاتون اپنی بیٹی کیلئے رشتہ دیکھنے گئیں، اور جب ان کو پتہ چلا کہ لڑکے کی داڑھی ہے، تو انہوں نے کہا: ''مجھے یہ رشتہ منظور نہیں، مجھے تو داڑھی کے نام سے نفرت ہے''، اب آپ بتائیں کہ داڑھی کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟ اور ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ داڑھی رکھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رکھنے کا حکم فرمایا ہے، اور داڑھی منڈانے والے کے لئے ہلاکت کی بددعا فرمائی ہے، لہذا داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے، اور اس کا منڈانا تمام ائمہ دین کے نزدیک حرام ہے۔
جو مسلمان یہ کہے کہ "مجھے فلاں شرعی حکم سے نفرت ہے" وہ مسلمان نہیں رہا، بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا، اور جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل سے نفرت کرے، وہ مسلمان کیسے رہ سکتا ہے؟ پس مذکورہ خاتون کو فوراً اپنے اس فعل سے توبہ کرنا، اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنا لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الحدیث النبوی:
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: احفوا الشوارب واعفوا اللحی۔ (سنن النسائي، الطہارۃ / باب إحفاء الشوارب وإعفاء اللحی رقم: ۱۵)

کذا فی الدر المختار:
ویحرم علی الرجل قطع لحیتہ۔ (درمختار مع الشامي ۶؍۴۰۷ کراچی)

کذا فی الشامیۃ:
باب المرتد: کفر الحنفیۃ بالفاظ کثیرۃ وافعال تصدر من المتھتکین لدلالتھا علی الاستخفاف بالدین کالصلاۃ بلا وضوء عمدا بل بالمواظبۃ علی ترک سنۃ استخفافا بھابسبب انہ فعل النبیﷺ… فعلی ھذا فا کثر الفاظ الکفر المذکورۃ لایفتی بالتکفیر ولقد الزمت نفسی ان لا افتی بشیٔ منھا۔(ج:4ص:222)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 170

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.