عنوان: حکومتی پابندی کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں ایک سے زائد جمعہ کی جماعت کرنے کا حکم(103850-No)

سوال: مفتی صاحب ! ہم نیوزی لینڈ میں رہتے ہیں، کروناوائرس کی وجہ سے حکومت نے ایک وقت میں 100 افراد تک جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، سو سے زائد افراد ہونے کی صورت میں دوسری جماعت کروانے کا کہا ہے، مسجدیں بھی بہت دور دور ہیں، اور حکومت کی بات بھی ماننا ضروری ہے، کیونکہ مسجد سے باہر سیکورٹی بھی ہوتی ہے اور کیمرے سے نگرانی بھی ہوتی ہے۔ کیا ہمارے لیے اس صورتحال میں ایک ہی مسجد میں دوسری جماعت کروانے کی گنجائش ہے، اگر نہیں تو پھر ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ جب محلے کی مسجد (جہاں امام ومؤذن مقرر ہو) میں باقاعدہ اذان واقامت کے ساتھ اہلِ محلہ جماعت کراچکے ہوں تو عام حالات میں مسجد کی حدود کے اندر دوسری جماعت کرانا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز ہے، مسجد کی حدود سے باہر دوسری جماعت کروائی جاسکتی ہے، لیکن جہاں سخت مجبوری ہو جیساکہ سوال میں ذکر ہے کہ حکومت نے 100 سے زائد افراد پر پابندی لگائی ہے تو ان حالات میں جمعہ کی ایک سے زائد جماعتیں کرانے کی شرعا اجازت ہے۔
لہذا مذکورہ صورت میں ایک سے زائد جماعتیں کرائی جاسکتی ہیں، بشرطیکہ ہر جماعت کا امام الگ الگ ہو،اور بہتر یہ ہے کہ دوسری جماعت ہیئت اولی پر نہ ہو، یعنی امام کو پہلی جماعت والی جگہ سے تھوڑا ہٹ کر کھڑا ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی مجمع الزوائد :
عن أبي بکرۃ أن رسول اللّٰہ ﷺ أقبل من نواحي المدینۃ یرید الصلوٰۃ، فوجد الناس قد صلوا فمال إلی منزلہ، فجمع أھلہ فصلٰی بھم۔
(ج،2 ص،54،مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وفی المصنف لابن أبي شیبہ:
قلت: ولو لم یکرہ لما ترک المسجد، وعن إبراھیم النخعي قال: قال عمرؓ: لا یصلی بعد صلوٰۃ مثلھا۔
(ج،4،ص 293 مکتبہ مؤسسۃ علوم القرآن)

وفی الدر مع الرد:
ولنا انہ علیہ الصلوۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم فعاد الی المسجد وقد صلی اہل المسجد فرجع الی منزلہ فجمع اہلہ وصلی ولوجاز ذلک لما اختار الصلوۃ فی بیتہ علی الجماعۃ فی المسجد ولان فی الاطلاق ہذا تقلیل الجماعۃ معنی فانہم لا یجتمعون اذا علموا انہم لا تفوتہم ۔ ۔ ۔ ومقتضی ہذا الاستدلال کراہۃ التکرار فی مسجد المحلۃ ولوبدون اذان ویؤیدہ مافی الظہیرۃ لو دخل جماعۃ المسجد بعد ماصلی فیہ اھل یصلون وحدانا
(ج،1 ص 516)

وفی المصنف لعبد الرزاق
عبدالرزاق عن معمر عن أبي عثمان" قال : مر بنا أنس بن مالك ومعه أصحاب له فقال : أصليتم ؟ قلنا : نعم ، قال : فنزل فأم أصحابه، فتقدَّم فَصَلى بهم،
(ج،2 ص،291)

وفی الشامیہ:
واختلف في کون الأمطار والثلوج والأوحال والبرد الشدید عذراً، وعن أبي حنیفۃؒ إن اشتد التأذی یعذر، قال الحسن: أفادت ہٰذہ الروایۃ أن الجمعۃ والجماعۃ في ذٰلک سواء، لیس علی ما ظنہ البعض أن ذٰلک عذر في الجماعۃ؛ لأنہا سنۃ لا في الجماعۃ؛ لأنہا من أکد الفرائض۔
(ج،2ص292 مکتبہ زکریا)  

وفی المبسوط:
انا أمرنا بتکثیر الجماعۃ وفي تکرار الجماعۃ في مسجد واحد تقلیلہا لأن الناس إذا عرفوا أنہم تفوتہم الجماعۃ یعجلون للحضور فتکثر الجماعۃ ، وإذا علموا أنہ لا تفوتہم یؤخرون فیؤدی إلی تقلیل الجماعۃ -إلی- فکل من حضر یصلی فیہ ، فإعادۃ الجماعۃ فیہ مرۃ بعد مرۃٍ لا تؤدی إلی تقلیل الجماعات
(ج،1 ص،391 مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کے لیے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

جمعہ وعیدین میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Eidain Prayers

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com