عنوان: تقسیمِ میراث میں قبضہ سے پہلے والدہ اور بہنوں کا اپنے حصہ سے دستبردار ہونا یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنے حصہ کو معاف کردینا (103851-No)

سوال: مفتی صاحب ! میراث کی تقسیم سے متعلق مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمادیں: (1)اگر کوئی بہن میراث کی تقسیم کے وقت یہ کہے کہ میں حصہ نہیں لینا چاہتی تو کیا اس طرح میراث سے بہن کا دستبردار ہوجانا شرعاََ معتبر ہوگا؟ (2) اسی طرح تقسیم کے وقت والدہ یہ کہے کہ میرا حصہ بھی بیٹوں میں تقسیم ہو، کیا اس کہنے سے وہ حصہ بیٹوں میں تقسیم کرنا ہوگا؟ (3) کیا بہنوں کا حصہ تھوڑا تھوڑا کرکے دے سکتے ہیں، جب کہ بھائیوں کے پاس بہنوں کو حصہ دینے کے پیسے بھی موجود ہوں؟

جواب: میراث میں جائیداد کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ ترکہ تقسیم ہوجائے تو پھر ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا حصہ کسی کو دینا چاہے یا کسی کے حق میں دست بردار ہوجائے تو یہ شرعاً جائز اور معتبر ہے، لیکن اگر بھائیوں کے یا خاندانی یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بہنوں یا والدہ سے ان کا حصہ معاف کرالیا جائے، جیسا کہ ہمارے ہند و پاک کے معاشرے میں کرایا جاتا ہے، اس صورت میں یہ حصہ بھائیوں اور بیٹوں کے لیے ہر گزحلال نہیں ہوگا۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

(1) بہن کا اپنے حصہ پر قبضہ کرنے سے پہلے دستبردار ہونا شرعاََ درست نہیں ہے۔

(2) اسی طرح والدہ کا اپنے حصہ پر قبضہ کرنے سے پہلے بیٹوں کو دینا بھی شرعاََ درست نہیں ہے۔

(3) بہنوں کی میراث بھائیوں کے ذمہ قرض ہے، بھائیوں کو چاہیے کہ والد مرحوم کی جائیداد فروخت کرنے کے بعد بہنوں کو جلد حصہ دیدیں، البتہ اگر بہنیں آپس کی رضامندی سے اپنا حصہ تھوڑا تھوڑا کرکے لینا چاہیں، تو اس کی بھی گنجائش ہوگی۔

واضح رہے کہ بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں کو ان کا حق و حصہ اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا، حدیث شریف میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی ظلماََ لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی مشکوۃ المصابیح:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".
(ج1، ص254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

کذا فی تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار:
" الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط".
(ج7، ص505، کتاب الدعوی، ط :سعید، کراچی)

کذا فی الأشباہ والنظائر:
"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك".
(ص309، ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبلہ، ط:قدیمی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

وراثت اور وصیت میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com