عنوان: عورتوں کے لیے ساڑھی پہننا کیسا ہے؟(103855-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا عورتوں کے لئے شرعاً ساڑھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جہاں ساڑھی غیر مسلم قوم کا شعار نہ ہو، اور اس طرح پہنی جائے کہ جس سے پورا جسم چھپ جائے، تو شرعاً اس کے پہننے کی اجازت ہے، البتہ ساڑھی کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی قمیض پہننا عورت کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الموسوعۃ الفقہیۃ:
اتفق الفقہاء علی أنہ یجب علی المرأۃ أن تلبس من اللباس ما یغطي جمیع عورتہا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ ۳۵؍۱۹۲)

وفیہ ایضاً:
ویشترط في الساتر أن لا یکون رقیقًا یصف ما تحتہ؛ بل یکون کثیفًا لا یریٰ منہ لون البشرۃ۔ ویشترط کذٰلک أن لا یکون مہلہلاً تریٰ منہ أجزاء الجسم؛ لأن مقصود الستر لا یحصل بذٰلک۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ ۲۴؍۱۷۴ کویت)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

معاشرت (اخلاق وآداب ) میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com