عنوان: وکیل کا متولی کی اجازت کے بغیر مسجد کی تعمیر میں اپنی ذاتی جیب سے خرچ کرنا اور بعد میں متولی کو بتائے مسجد کے فنڈ سے وصول کرنے کا حکم(103858-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک شخص مسجد میں ترقیاتی کام کروا رہا ہے، اسے گنبد پر ٹائل لگانے کے لیے اس کے والد نے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے دیئے، لیکن بعد میں مشورہ ہوا کہ سادہ ٹائلز کی جگہ دوسرے ٹائلز لگائے جائیں، جس سے لاگت ایک لاکھ پچاس ہزار سے بہت بڑھ گئی، اب چونکہ اس کے والد طے شدہ رقم سے زائد دینے پر راضی نہیں ہیں، اس لیے وہ شخص چاہتا ہے کہ اضافی رقم اپنی جیب سے دے دے اور وہ رقم مسجد کی کسی دوسری تعمیرات کی رقم سے، مثلاً: پلستر یا دروازوں کی مد میں جو پیسے موجود ہیں اس سے اپنی لگائی گئی اضافی رقم کاٹ لے، تو کیا اس شخص کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت اور تنقیحات کے بعد مذکورہ صورت کا حکم یہ ہے کہ چونکہ مسجد میں تعمیرات کرانے والا مسجد کے متولی کا وکیل ہے، نیز متولی کی اجازت ورضا مندی کے بغیر اپنی طرف سے تعمیر کی مد میں مزدوروں کو طے شدہ رقم سے اضافی رقم دینا اس کی طرف سے تبرع واحسان ہے، گو کہ یہ اضافی رقم اضافی کام کے عوض ہی کیوں نہ ہو، لیکن انہیں چاہیے یہ تھا کہ وہ پہلے متولی مسجد کو اس اضافے پر راضی کرتے، پھر اپنی جیب سے لگانے کے بعد وہ رقم متولی سے وصول کر لیتے، اب اگر انہوں نے ایسا کر لیا ہے تو ان کا مسجد کے کسی اور فنڈ سے اپنی لگائی ہوئی رقم کاٹنا درست نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا دھوکہ دہی اور متولی کے ساتھ خیانت کے زمرے میں آئے گا۔
لہذا جو بھی معاملہ ہو، اسے صاف صاف متولی کے سامنے رکھا جائے اور ان کے فیصلے کے بعد ہی اقدام کیا جائے۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اگر متولی اس بات پر راضی ہو جاتا ہے تو ان سے اپنی لگائی ہوئی رقم لی جا سکتی ہے، ورنہ یہ رقم تبرع واحسان شمار ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی البدائع:
"إن الوکیل یتصرف بولایۃ مستفادۃ من قبل الموکل فیلي من التصرف قدر ما ولاہ".
(بدائع الصنائع، کتاب الوکالۃ، بیان حکم التوکیل)

وفی شرح المجلۃ:
"لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ أو ولایۃ علیہ، وإن فعل کان ضامنا".
(شرح المجلۃ لسلیم رستم الباز: رقم: ۹۶)

وفی قواعد الفقہ:
"لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بغیر إذنہ".
(قواعد الفقہ: ص ۱۱۰)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

http://AlikhlasOnline.com

تجارت و معاملات میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

02 Apr 2020
جمعرات 02 اپریل - 8 شعبان 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2020. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com