سوال:
مفتی صاحب! ایک غریب (غیر صاحب نصاب) شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا اور قربانی سے قبل (غریب شخص) فوت ہوگیا تو اب اس جانور کا کیا کیا جائے؟
جواب: سوال میں مذکورہ غریب شخص نے اگر انتقال سے پہلے اس جانور کی قربانی کرنے کی وصیت کی تھی تو ورثاء کے لیے اس جانور کی قربانی کرنا ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر یہ جانور اس کی میراث میں شمار ہوگا اور ورثاء کے لیے اس کی قربانی کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم اس صورت میں اگر ورثاء اس کی طرف سے اس جانور کی قربانی کردیں تو یہ ان کی طرف سے اس شخص کے ساتھ بہت بڑی نیکی شمار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: 321/6، ط: دار الفكر)*
(وفقير) عطف عليه (شراها لها) لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها.
(قوله لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء وهذا ظاهر الرواية *لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفا* كما في البدائع.
*رد المحتار: (359/2، ط: دار الفكر)*
في الجوهرة: إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث. اه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی