resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایک حصے میں قربانی اور عقیقہ کی مشترکہ نیت کا حکم

(39880-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر کسی پر قربانی واجب نہ ہو اور وہ قربانی کے جانور میں ایک حصہ قربانی اور عقیقہ دونوں کی نیت سے لے تو کیا اس طرح سے اس کو دونوں کا ثواب ملے گا یا ایک حصے کے لیے صرف ایک نیت کرنا ہوگی ؟

جواب: واضح رہے کہ قربانی کے جانور کے ایک ہی حصّہ میں قربانی اور عقیقہ دونوں کی نیت کرنا درست نہیں ہے، البتہ قربانی کے بڑے جانور مثلاً: اونٹ، گائے، بھینس وغیرہ کے سات حصّوں میں قربانی کے لیے متعین حصوں کے علاوہ عقیقہ کی نیت سے مستقل حصہ شامل کیا جاسکتا ہے، جو حصہ عقیقہ کی نیت کا ہوگا، اس میں عقیقے کا ثواب ملے گا، بقیہ حصے قربانی کے شمار ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (5/ 70،ط: دارالکتب العلمیة)
فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ‌ذبح ‌واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.

حاشية ابن عابدين: (6/ 326، ط: سعید)
وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa