resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: منہ کی بیماری میں مبتلا جانور کی قربانی

(42081-No)

سوال: ہمارے علاقے میں جانوروں کو ایک بیماری لاحق ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے منہ میں تھرتھراہٹ پیدا ہو جاتی ہے، بعض اوقات بیماری اس قدر شدید ہوتی ہے کہ جانور اچھی طرح خوراک نہیں کھا سکتا اور رفتہ رفتہ کمزور ہوتا جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات بیماری ہلکی ہوتی ہے اور جانور کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ اس بیماری کو پشتو زبان میں “تراونئ” کہا جاتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نوٹ: ہمارے علاقے کے مویشی تاجروں کے نزدیک یہ بیماری عیب شمار ہوتی ہے۔

جواب: واضح رہے کہ اگر جانور مذکورہ بیماری کی وجہ سے کھانے پینے سے بالکل قاصر ہوجاتا ہو یا اس قدر کمزور ہو جاتا ہو کہ کمزوری کی وجہ سے وہ ذبح کرنے کی جگہ تک پاؤں پر چل کر نہیں جاسکتا ہو یا یا دیکھنے میں واضح طور پر بیمار نظر آتا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہوگی، البتہ اگر بیماری اس قدر نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*جامع الترمذي: (162/3، رقم الحديث: 1497، ط: دار الغرب الإسلامي)*
عن ‌البراء بن عازب رفعه قال: «لا يضحى بالعرجاء بين ظلعها»، ولا بالعوراء بين عورها، ولا بالمريضة بين مرضها، ولا بالعجفاء التي لا تنقى.

*البناية شرح الهداية: (34/12، ط: دار الكتب العلمية)*
والمريضة البينة مرضها أي التي يبين أثر المرض عليها؛ لأن ذلك ينقص لحمها. وبه قال أحمد في الأصح.

*الموسوعة الفقهية الكويتية: 82/5، ط: دار السلاسل)*
(الشرط الثالث) : سلامتها من العيوب الفاحشة، وهي العيوب التي من شأنها أن تنقص الشحم أو اللحم إلا ما استثني.
وبناء على هذا الشرط لا تجزئ التضحية بما يأتي:
(١)العمياء.....................................(١٥) *المريضة البين مرضها، أي التي يظهر مرضها لمن يراها.*

*فتاویٰ قاسمیہ: 431/22، ط: مکتبہ اشرفیہ)*

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa