سوال:
محترم مفتی صاحب! مجھے اپنے طلاق کے معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ براہِ کرم درج ذیل تفصیل کی روشنی میں شرعی حکم مرحمت فرمائیں۔
ميرا نكاح 07-10-2005 کو ہوا تھا، بعد میں بعض گھریلو اختلافات کی بنا پر 07-02-2016 کو طلاق نامہ بنوایا، میری نیت صرف ایک طلاق دینے کی تھی تین طلاقیں دینے کی نہ نیت تھی اور نہ ارادہ۔
طلاق نامہ ایک بروکر کے ذریعے تیار کیا گیا، میں نے خود طلاق نامہ تحریر نہیں کیا اور نہ ہی دستخط کرنے سے پہلے اس کا متن پڑھا تھا، اس وقت مجھے پولیس کی طرف سے مسلسل کالیں آ رہی تھیں کیونکہ میری بیوی اور اس کے گھر والے تھانے میں تھے، اس وجہ سے مجھے تھانے بلایا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے میں ذہنی دباؤ اور جلدی میں تھا، اسی حالت میں میں نے بغیر متن پڑھے طلاق نامے پر دستخط اور انگوٹھا ثبت کر دیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ طلاق نامے میں تین طلاقوں کے الفاظ درج تھے۔ میری نیت طلاق نامہ بنوانے سے لے کر دستخط کرنے تک صرف ایک طلاق کی تھی۔ میں نے اپنی اہلیہ کو کبھی زبان سے طلاق نہیں دی۔ صرف یہی تحریری طلاق نامہ اہلیہ کو بھیجا گیا تھا۔
اب میں اور میری اہلیہ دونوں دوباره ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ براه کرم درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں
1) مذکورہ صورت حال میں کتنی طلاق واقع ہوئی؟
2) کیا اس معاملے میں میری نیت صرف ایک طلاق کی نیت کا اعتبار ہوگا؟
3) طلاق نامے میں درج تین طلاقوں کے الفاظ کا شرعی حکم کیا ہے جبکہ میں نے متن پڑھے بغیر دستخط کیے تھے؟
4) کیا میرے لیے رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی صورت موجود ہے؟
5 ) میری اور میری اہلیہ کی موجودہ شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کو معلوم نہیں تھا کہ مذکورہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، اور نہ ہی آپ نے اسے پڑھا تھا، بلکہ آپ نے ایک طلاق سمجھ کر اس پر دستخط کر دیے تھے تو ایسے دستخط کرنے کی وجہ سے صرف ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران شوہر اگر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر زبان سے کہہ دے: "میں نے رجوع کر لیا ہے" تو رجوع ہو جائے گا، اور بہتر یہ ہے کہ اس پر دو گواہ بھی بنا لے۔ اگر زبان سے کچھ نہ کہے، مگر آپس میں میاں بیوی کا تعلق قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو ہاتھ لگا لے، تب بھی رجوع ہو جائے گا، البتہ اگر عدت گزر گئی تو پھر باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
تاہم یہ یاد رہے کہ رجوع یا نیا نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں شوہر کے لیے سخت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔
البتہ اگر آپ نے طلاق نامہ پڑھ کر اس پر دستخط کیے تھے، یا آپ کو معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، یا آپ ہی کے کہنے پر تین طلاقوں والا طلاق نامہ تیار کروایا گیا تھا تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مُغلَّظہ ثابت ہوگئی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (347/3، ط: دار الفکر)
ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب منآخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی