سوال:
زاہدہ بی بی کی تین پوتیاں ہیں: شکیلہ بی بی، راحلہ بی بی، اور بشریٰ بی بی، ان میں سے شکیلہ بی بی نے اپنی دادی زاہدہ بی بی کا دودھ پیا ہے (یعنی رضاعت ثابت ہے)۔ زاہدہ بی بی کی ایک بیٹی آمنہ بی بی ہے اور آمنہ بی بی کا ایک پوتا ہے جس کا نام ذیشان بن وحیداللہ ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بشریٰ بی بی اور ذیشان بن وحیداللہ آپس میں رشتے کے اعتبار سے کیا بنتے ہیں؟ کیا بشریٰ بی بی کا نکاح ذیشان بن وحیداللہ کے ساتھ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
سوال میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق زاہدہ بی بی کی بیٹی کے پوتے "ذیشان بن وحید اللہ" اور زاہدہ بی بی کی پوتی "بشریٰ بی بی" کا آپس میں حرمت یا رضاعت کا ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا آپس میں نکاح کرنا ممنوع ہو، لہذا ذیشان بن وحید اللہ کا نکاح بشریٰ بی بی کے ساتھ کرنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الآیة: 24)
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا O
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی