سوال:
میرے پاس زکوٰۃ کی رقم ہے، میں اسے مضاربت کے ذریعے ضرورت مند کے ساتھ مل کر کاروبار میں لگا سکتی ہوں؟ میں منافع خود نہیں لینا چاہتی، میری نیت مذکورہ شخص کو کام پر آمادہ کرنا اور اس کو اپنے پاؤں پر کھڑے کرنی کی ہے ، جو منافع ملے گا وہ میں کسی اور مستحق پر لگا دوں گی۔ کیا میں ایسا کرسکتی ہوں؟
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم براہِ راست مضاربت میں لگانا جائز نہیں ہوتا، بلکہ کسی مستحق کو اس کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مستحقِّ زکوٰۃ کو مالک بنائے بغیر اور اس کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کی رقم مضاربت میں لگانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر مستحق شخص کو مالک بنانے کے بعد اس کی رضامندی سے یہ رقم شرعی اصولوں کے مطابق مضاربت میں لگادی جائے تو اس کی اجازت ہوگی، لیکن اس صورت میں بھی منافع کسی اور مستحق شخص کو دینا جائز نہیں ہوگا، بلکہ مضارب (کام کرنے والے) اور ربّ المال (سرمایہ کاری کرنے والے) کے درمیان طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الدر المختار: (344/2، ط: دار الفکر)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی