سوال:
محترم مفتی صاحب! شیئرز پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے ایک طریقہ (Proxy Method) ہے کہ اگر کسی لسٹڈ کمپنی کی بیلنس شیٹ سے زکوٰۃ کے قابل اثاثوں (Zakatable Assets) کی صحیح تفصیلات معلوم کرنا مشکل ہو تو احتیاطاً شیئرز کی کل مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد بطورِ تخمینہ (Proxy) مقرر کر کے اس پر 2.5 فیصد زکوٰۃ نکالی جائے۔
اس سلسلے میں درج ذیل وضاحت طلب ہے:
1) کیا شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے تخمینے والے طریقے پر بھروسہ کر کے زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے؟
2) خاص طور پر ای ٹی ایف (ETF) کی صورت میں جہاں ایک ہی فنڈ میں 100 سے 300 تک مختلف کمپنیاں شامل ہوتی ہیں اور ہر کمپنی کے اثاثوں کی الگ الگ تحقیق کرنا ایک عام انویسٹر کے لیے تقریباً ناممکن ہوتا ہے، کیا وہاں یہ 25 فیصد والا پراکسی طریقہ اختیار کرنا درست ہوگا؟
3) کیا ایسی صورت میں کوئی اور آسان شرعی حل موجود ہے جس سے زکوٰۃ کی صحیح مقدار ادا ہو جائے اور ذمہ داری بھی پوری ہو؟
---
کچھ اضافی نکات جو آپ کی معلومات کے لیے ہیں:
پیچیدگی: چونکہ ETF میں کمپنیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے انفرادی طور پر 'Cash' اور 'Receivables' نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
احتیاط: 25% کا عدد عام طور پر ایک اوسط (Average) کے طور پر لیا جاتا ہے تاکہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو۔
جواب: واضح رہے کہ لسٹڈ کمپنیوں کے جو شیئرز سالانہ نفع حاصل کرنے کی نیت سے خریدے گئے ہوں، ان کی زکوۃ کی ادائیگی کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ ان شیئرز کی بازاری قیمت کے اعتبار سے ان کی مالیت کے اس حصے پر زکوۃ واجب ہوگی جو قابل زکوۃ اثاثوں کے مقابلے میں ہیں، البتہ اگر قابل زکوٰۃ اثاثے معلوم نہ ہوں کہ کتنے ہیں تو اسی صورت میں احتیاطاً شیئرز کی پوری بازاری قیمت پر زکوۃ ادا کرنا زیادہ بہتر ہے۔
قابل زکوة اثاثے کو معلوم کرنے کے لیے سوال میں ذکر شدہ تخمینی طریقہ کار (proxy method) کو وہاں معیار بنا جاسکتا سکتا ہے، جہاں لمیٹڈ کمپنیوں کی بیلنس شیٹ کا تجزیہ کر کے شماریاتی اندازہ لگایا گیا ہو کہ فلاں سیکٹر میں کمپنیوں کے اثاثوں میں قابل زکوة اثاثے عام طور پر اتنے ہوتے ہیں، مثلاً پاکستان میں ٹیکسٹائل کمپنیوں کے تجزیے میں اگر یہ بات سامنے آئے کہ عموماً ٹیکسٹائل کمپنیوں کے تقریباً 60 فیصد اثاثے (زمین، مشینیں، فرنیچر، فٹنگ، گاڑیاں وغیرہ) قابل زکوة نہیں ہوتے، صرف 40 فیصد قابل زکوة ہوتے ہیں تو اس طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کی لسٹڈ کمپنیوں کی عمومی زکوة کم و بیش مارکیٹ ویلیو کے 40 فیصد پر لازم ہوگی، لیکن ہمارے ہاں چونکہ فی الحال لسٹڈ کمپنیوں کے اثاثوں کے شماریاتی تجزیے اس طرح موجود نہیں ہیں، اس لیے احتیاطاً ٹوٹل ویلیو پر زکوة ادا کرنے کا فتوٰی دیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المعیار الشرعی 35 ، الزکاۃ (4/2/4)
الاستثمارت في الأسهم؛ بغرض الاحتفاظ بها (النماء): إذا أمكن عن طريق الشركة معرفة ما يخص السهم من الموجودات الزكوية (النقود وعروض التجارة والديون المرجوة السداد) فإنه يزكى ذلك وإذا لم يمكن ذلك فيزكى ما يخص السهم من الموجودات الزكوية بحسب التحري (التقدير).
الدر المختار: (265/2، ط: دار الفکر)
(ولا في ثياب البدن)۔۔(وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة۔۔۔۔۔(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول)۔۔۔۔۔۔(أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض
الھدایۃ: (96/1، ط: دار احیاء التراث العربی)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة " لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية أيضا وعلى هذا كتب العلم لأهلها وآلات المحترفين لما قلنا "
الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (1947/3، ط: دار الفکر)
العمارات بقصد الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر۔۔۔۔وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها وإنما في ريعها وغلتها أو أرباحها.
کذا فی تبویب الفتاوی جامعہ دارالعلوم کراچی (50/713)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی