سوال:
میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟ میرے پاس تقریباً ساڑھے چار تولہ سونے کے زیورات ہیں جو ذاتی استعمال میں ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے چند سال پہلے ایک کاروبار میں 3,50,000 پاکستانی روپے سرمایہ کاری کی تھی۔ دو سال تک مجھے اس پر نفع ملا، لیکن گزشتہ دو سال سے کاروبار خسارے میں ہے اور میرا اصل سرمایہ پھنسا ہوا ہے۔ متعلقہ شخص اس وقت رقم واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، البتہ نیت رکھتا ہے کہ استطاعت ہونے پر واپس کرے گا۔
اسی طرح مجھ پر 1,00,000 پاکستانی روپے کا قرض بھی ہے، جسے میں ان شاء اللہ سرمایہ واپس ملنے کے بعد ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔
میرے پاس نہ کوئی بچت ہے، نہ ملازمت اور نہ ہی ذاتی آمدنی۔ میرے شوہر ماہانہ 5,000 روپے گھریلو ضروریات کے لیے دیتے ہیں، جو مکمل خرچ ہو جاتے ہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:
1)کیا میں صاحبِ نصاب شمار ہوں گی؟
2)کیا مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے؟
3)کیا پھنسی ہوئی سرمایہ کاری زکوٰۃ میں شمار ہوگی؟
4)قرض زکوٰۃ پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟
5)کیا ذاتی استعمال کے سونے کے زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟
6)اگر زکوٰۃ ادا کرنا مشکل ہو اور میں سونا فروخت نہیں کرنا چاہتی تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1/4) آپ کے بیان کے مطابق آپ کے پاس تقریباً ساڑھے چار تولہ سونا موجود ہے، اگرچہ یہ سونا تنہا سونے کے نصاب (ساڑھے سات تولے) سے کم ہے، لیکن چونکہ آپ کے پاس کاروبار میں لگائی گئی رقم بھی موجود ہے، اس لیے مجموعی مالیت دیکھی جائے گی، لہذا آپ پر جو 1,00,000 روپے قرض ہے، وہ منہا کرنے کے بعد اگر سونے کی موجودہ قیمت اور قابلِ وصول سرمایہ (3,50,000 روپے) مل کر نصابِ زکوٰۃ کے برابر یا اس سے زیادہ بنتا ہو تو آپ صاحبِ نصاب شمار ہوں گی اور زکوٰۃ واجب ہوگی۔
5) احناف کے نزدیک تنہا یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ نصاب تک پہنچنے کی صورت میں استعمال کے زیورات میں بھی زکوۃ واجب ہے۔
6) اگر زکوٰۃ ادا کرنا فی الحال دشوار ہو اور آپ سونا فروخت نہیں کرنا چاہتی تو ایسی صورت میں ہر سال کے آخر میں زکوٰۃ کی رقم کا حساب لگا کر ایک کاپی میں نوٹ کرلیں کہ اس سال اتنی زکوٰۃ کی رقم مجھ پر نکالنا واجب ہے، اور پھر بعد میں استطاعت ہونے پر ادا کردیں یا شوہر، اہلِ خانہ یا کسی اور سے کہہ دیں کہ وہ آپ کی زکوٰۃ ادا کردے۔ نیز اگر زکوٰۃ ایک ساتھ ادا کرنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کرنے کی بھی گنجائش ہے، البتہ زکوٰۃ کو بلا عذر مؤخّر کرنا درست نہیں، اس لیے حتیَّ المقدور جلد ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکريم: (التوبة، الآیة: 34)*
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔
*سنن لأبي داؤد: (رقم الحدیث: 1565)*
عن عبد الله بن شداد بن الهاد، انه قال: دخلنا على عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فراى في يدي فتخات من ورق، فقال:" ما هذا يا عائشة؟" فقلت: صنعتهن اتزين لك يا رسول الله، قال:" اتؤدين زكاتهن؟" قلت: لا، أو ما شاء الله، قال:" هو حسبك من النار".
*الموسوعة الفقهية: (263/23، ط: سعيد)*
الأول: الحلي من الذهب والفضة الذي يعده مالكه لاستعماله في التحلي استعمالا مباحا. قال المالكية: ولو لإعارة أو إجارة، فلا يكون فيه زكاة عند الجمهور ومنهم الشافعية على المذهب، لأنه من باب المقتنى للاستعمال كالملابس الخاصة، وكالبقر العوامل.
وذهب الحنفية وهو قول مقابل للأظهر عند الشافعية: إلى وجوب الزكاة في الحلي، كغيرها من أنواع الذهب والفضة۔
*الدر المختار: (295/2، ط: دار الفكر)*
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل).................................. (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد.
*الدر المختار: (272/2، ط: دار الفکر)*
(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفور وهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام، وتمامه في الفتح.
قوله (وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب، وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com