resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غیر مستحق مسلمان کو زکوٰۃ دینے کی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم

(41962-No)

سوال: مفتی صاحب! ایک شخص کو کسی نے زکوٰۃ دی کہ جہاں آپ چاہیں دے دیں، اس شخص نے تحقیق کے بعد ایک جگہ زکوٰۃ دی، اب ایک مہینہ بعد معلوم ہوا کہ وہ مستحقِ زکوۃ نہیں تھا تو کیا اس صورت میں وکیل کو دوبارہ زکوٰۃ دینی ہوگی؟ اور کیا اس صورت میں وکیل کو اس شخص کو بھی بتانا ہوگا جس نے اپنی زکوٰۃ دینے کا اس کو وکیل بنایا تھا؟

جواب: واضح رہے کہ اگر زکوٰۃ دینے والے نے تحقیق کرنے کے بعد کسی مسلمان شخص کو مستحقِ زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ دی ہو تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اگرچہ بعد میں معلوم ہو کہ وہ شخص در حقیقت مستحق نہیں تھا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ زکوٰۃ کے وکیل نے تحقیق کے بعد زکوٰۃ ادا کی تھی، اس لیے زکوٰۃ صحیح طور پر ادا ہو چکی ہے، دوبارہ زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية:(1/ 190،ط:دار الفکر)
وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف، وإذا دفعها إليه، وهو شاك، ولم يتحر أو تحرى، ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف، هكذا في التبيين.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat