سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میں ایک صورتحال کے بارے میں آپ سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں۔ ایک ڈرائیور جو میری بیٹی کو اسکول سے پک اینڈ ڈراپ کرتا ہے، اس کی مدد کی ہے کیونکہ وہ اقامہ کی تجدید کے مسئلے میں مبتلا ہے۔ سعودی عرب میں اقامہ قانونی طور پر ضروری ہوتا ہے، لیکن اس کا کفیل اس سے بہت زیادہ رقم مانگ رہا ہے جو وہ ادا نہیں کر سکتا۔
اس کے پاس اپنی گاڑی ہے، لیکن مالی حالات اتنے مضبوط نہیں کہ وہ یہ خرچ برداشت کر سکے، اس وجہ سے میں نے اللہ کی رضا کے لیے اسے کچھ رقم دی تاکہ اس کی مدد ہو سکے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم کو زکوٰۃ میں شمار کیا جا سکتا ہے یا یہ صدقہ جاریہ کے زمرے میں آئے گی؟ جزاک اللہ خیرا
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے رقم دیتے وقت یا زکوٰۃ کی رقم الگ کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا شرعاً ضروری ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر وہ شخص مستحقِ زکوٰۃ ہے تو جو رقم آپ نے پہلے زکوٰۃ کی نیت کے بغیر دی تھی، اگر وہ رقم اب بھی اس مستحق کے پاس موجود ہے اور اس نے اسے خرچ نہیں کی تو ایسی صورت میں اب اگر آپ زکوٰۃ کی نیت کرلیں تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ،البتہ اگر زکوٰۃ کی نیّت کرنے سے پہلے ہی وہ مستحق اس رقم کو خرچ کرچکا ہو تو پھر اس رقم میں زکوة کی نیت کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوى الهندية: (171/1،ط:دار الفكر)
و إذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، و إلا فلا، كذا في معراج الدراية و الزاهدي و البحر الرائق و العيني و شرح الهداية.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی