سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک شخص کے پاس جون 2025 میں 5 لاکھ روپے تھے، جس پر وہ زکوۃ کا صاحب نصاب بن گیا تھا، اب جون 2026 میں اس کے پاس 15 لاکھ روپے ہیں تو زکوٰۃ 5 لاکھ روپے کے حساب سے دی جائے گی یا جو رقم (15 لاکھ) جون 2026 میں موجود ہے، اس پر دی جائے گی؟
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے ہر رقم پر الگ الگ ایک سال گزرنا شرط نہیں ہوتا، بلکہ جب کسی شخص کے پاس نصاب کے برابر مال موجود ہو اور اس کے نصاب کا سال مکمل ہوجائے تو اس وقت اس کی ملکیت میں جتنا قابلِ زکوۃ اموال (نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت) موجود ہو، سب زکوٰۃ کے حساب میں شامل ہوگا، اگرچہ اس میں سے کچھ مال یا رقم سال مکمل ہونے سے چند دن، چند گھنٹے یا چند لمحے پہلے ہی حاصل ہوئی ہو، مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے پاس پہلے سے نصاب کے برابر مال موجود تھا اور اس کے زکوٰۃ کے سال کے اختتام سے ایک دن پہلے اسے مزید رقم مل گئی تو وہ نئی رقم بھی زکوٰۃ کے حساب میں شامل ہوگی اور اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا، لہٰذا یہ سمجھنا درست نہیں کہ ہر نئی رقم پر الگ سے ایک سال گزرنے کا انتظار کیا جائے۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں نصاب کا سال پورا ہونے پر موجودہ پندرہ لاکھ روپے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهداية: (103/1، ط: دار احياء التراث العربي)
وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة۔
الھندیة: (175/1، ط: دار الفكر بيروت)
ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاۃ المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع۔
و فیه ایضاً: (175/1، ط: دار الفكر)
(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی