سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! زکوٰۃ سے متعلق ایک سوال ہے، اگر آپ رہنمائی فرما سکیں تو مہربانی ہوگی۔
میری بہن ریٹائرڈ ہیں اور ان کی کچھ رقم شیئرز میں سرمایہ کاری کی صورت میں ہے، جس کے منافع (Dividend Income) سے وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرتی ہیں، وہ شیئرز کی خرید و فروخت یا ٹریڈنگ نہیں کرتیں، بلکہ یہ ایک ایسا پورٹ فولیو ہے جو میرے بہنوئی نے کئی سالوں کے دوران بنایا تھا اور اب اسی طرح موجود ہے۔
میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہر سال ان شیئرز کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی یا زکوٰۃ اس وقت واجب ہوگی جب یہ شیئرز فروخت کیے جائیں؟ اس بارے میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں تو بہت مہربانی ہوگی۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ کی بہن نے شیئرز (Shares) بیچنے کی نیت سے نہیں خریدے ہیں، بلکہ شئیرز کو مستقل طور پر اپنی ملکیت میں روک کر اس پر ملنے والے فائدے (Dividend) کو وصول کررہی ہیں، اس صورت میں شیئرز کی کل قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، بلکہ شیئرز کی صرف اُس مقدار پر زکوة واجب ہوگی جو قابل زکوٰۃ اساسوں کی صورت میں ہو۔
شئیرز کی کتنی مقدار قابلِ زکوٰۃ اساسوں کی صورت میں ہے؟ کمپنی کی بیلنس شیٹ (Balance sheet) دیکھ کر اس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار: (265/2، ط: دار الفکر)*
(ولا في ثياب البدن)۔۔(وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة۔۔۔۔۔(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول)۔۔۔۔۔۔(أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض
*الھدایۃ: (96/1، ط: دار احیاء التراث العربی)*
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة " لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية أيضا وعلى هذا كتب العلم لأهلها وآلات المحترفين لما قلنا "
*الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (1947/3، ط: دار الفکر)*
العمارات بقصد الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر۔۔۔۔وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها وإنما في ريعها وغلتها أو أرباحها.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی