سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال زکوٰۃ کے متعلق ہے، میرے پاس تقریباً 40 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں، ان اثاثوں میں قابلِ زکوٰۃ اور غیر قابلِ زکوٰۃ چیزیں شامل ہو سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ میں نے اپنے ادارے کی طرف سے ایک اسلامی بینک سے Staff Housing Finance حاصل کی ہوئی ہے، جو Diminishing Musharakah کی بنیاد پر ہے، اس فنانسنگ کی اصل رقم تقریباً 50 لاکھ روپے تھی، جبکہ اس رمضان کے وقت اس کی بقایا رقم تقریباً 41 لاکھ روپے (4.1 million) ہے۔
براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
کیا میرے 40 لاکھ روپے کے اثاثوں پر زکوٰۃ واجب ہے؟
کیا Diminishing Musharakah کے تحت بقایا 41 لاکھ روپے کو میرے قابلِ زکوٰۃ مال سے منہا کیا جا سکتا ہے؟
اگر پوری بقایا رقم منہا نہیں کی جا سکتی تو شرعاً کتنی رقم منہا کی جائے گی؟
چونکہ یہ فنانسنگ میرے رہائشی گھر کے لیے ہے، اس لیے گھر اور اس کی فنانسنگ کا زکوٰۃ کے حساب میں کیا حکم ہے؟
میری موجودہ صورتِ حال میں اگر زکوٰۃ واجب ہے تو براہِ کرم یہ بھی بتا دیں کہ کتنی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور کتنی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
اگر درست فتویٰ دینے کے لیے میرے اثاثوں کی نوعیت، ماہانہ قسط یا قرض کی شرائط کے بارے میں مزید معلومات درکار ہوں تو براہِ کرم آگاہ فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ صاحبِ نصاب پر واجب ہے اور زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ضرورت سے زائد نقدی یا مالِ تجارت ہے، البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک چیز تنہا نصاب کو نہ پہنچ رہی ہو تو سونا، چاندی، ضرورت سے زائد نقدی اور مالِ تجارت میں سے بعض یا کل کو دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ جمع کیا جائے اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو سال پورا ہونے پر ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
البتہ اگر صاحبِ نصاب مقروض ہو اور وہ قرضہ طویل المدتی ہو یعنی جس کا مطالبہ فوری نہ ہو تو کل قابلِ زکوٰۃ اثاثوں میں سے صرف اس سال کے واجب الادا قرضہ کو منہا کیا جائے گا، یعنی کل قرضے میں سے جتنی رقم اس سال ادا کرنی ہے اتنی رقم منہا کر کے باقی ماندہ پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں رہائشی مکان شرکتِ متناقصہ (Diminishing Musharakah) کی بنیاد پر خریدنے کی صورت میں بینک کو اس سال ادا کی جانے والی قسط کو منہا کرنے کے بعد اگر آپ کی زکوة کی تاریخ کو آپ کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر بنتی ہے تو آپ پر اس کی (کل مالیت کا ڈھائی فیصد بطور ) زکوٰۃ واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھدایة: (کتاب الزکوٰۃ، 200/1، ط: رحمانیة)*
الزکوة واجبة علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا ملکا تاما و حال علیہ الحول۔
*بدائع الصنائع: (20/2، 21، ط: دار الکتب العلمیة)*
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء۔
*الدر المختار: (باب زکاة المال، 233/3، ط: سعید)*
وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول.
*الهداية: (103/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
فصل في العروض: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب "لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی