سوال:
السلام علیکم مفتی صاحب، mutual funds سے جو profit آتا ہے اگر ہم withdraw کریں تو 15% ٹیکس کٹتا ہے، ہم زکوۃ کتنی رقم کی ادا کریں، مثال کے طور پر ایک لاکھ روپے investment پر 10000 کا نفع ہوا، تو کیا زکوة 110000 کی ادا کریں گے یا پھر 185000 کی (ٹیکس کی کٹوتی کےبعد )؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر زکوٰۃ کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ کو میوچل فنڈ (Mutual Fund) اور اس سے حاصل ہونے والا نفع (Profit) ملکیت میں موجود ہو اور اس وقت اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو تو بعد میں اکاؤنٹ سے رقم نکلواتے (Withdrawal) کرتے وقت کٹنے والے ٹیکس (%15) کی کٹوتی زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت نہیں کی جائے گی، بلکہ نفع (Profit) سمیت پوری رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔
البتہ اگر زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے میوچل فنڈ اور اس سے حاصل ہونے والے نفع (Profit) کو اکاؤنٹ سے نکال لیا جائے تو اس صورت میں اکاؤنٹ سے رقم نکلواتے (Withdrawal) کرتے وقت کٹنے والے ٹیکس (%15) کے علاوہ باقی ماندہ رقم کی زکوٰۃ مقررہ تاریخ پر ادا کرنا لازم ہوگی۔
واضح رہے کہ اصولی طور پر مشترکہ کاروبار میں لگی ہوئی اصل رقم (principal amount) اور اس پر حاصل ہونے والے نفع دونوں پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، لہذا جو میوچل فنڈ کمپنی مستند علماء کرام کی زیرنگرانی شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کرتی ہو تو چونکہ اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی حلال ہوتا ہے، اس لئے ایسے میوچل فنڈز میں لگائے ہوئے سرمایہ اور حاصل ہونے والا نفع، (اگر خرچ نہ ہوا ہو) دونوں پر زکوٰۃ لازم ہوگی، لیکن جو میوچل فنڈ کمپنی شرعی اصولوں کے مطابق کام نہیں کرتی، ان میں سرمایہ کاری شرعاً جائز نہیں ہے، نیز اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال نہیں کہلائے گا، اس لئے ایسی کمپنی کے میوچل فنڈ میں صرف اصل رقم/سرمایہ پر زکوٰۃ لازم ہوگی، اس سے حاصل ہونے والے نفع پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی، بلکہ نفع کی ساری رقم کو بلا نیت ثواب کرنا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الفتاوى الهندية: (172/1، ط: رشیدیة)*
"(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة".
*بدائع الصنائع: (20/2، ط: دار الکتب العلمیة)*
وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة، وهذا قول عامة العلماء.
وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة لما ذكرنا فيما تقدم بخلاف الذهب والفضة فإنه لا يحتاج فيهما إلى نية التجارة؛ لأنها معدة للتجارة بأصل الخلقة فلا حاجة إلى إعداد العبد ويوجد الإعداد منه دلالة على ما مر
*الهندية: (172/1، ط: دار الفکر)*
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة
*معارف السنن: (باب ما جاء لا تقبل صلاة بغیر طهور، 34/1، ط: سعید)*
"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالهدایۃ وغیرها: أن من ملکك بملك خبیث، ولم یمکنه الرد إلی المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء … قال: إن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولا یرجو بہ المثوبة
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی