resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بہو کا ساس کو زکوة دینا

(50280-No)

سوال: مجھے ایک مسئلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میں ہر ماہ اپنی والدہ اور اپنے بھائی کو مجموعی طور پر 50,000 روپے دیتا ہوں، یعنی سالانہ تقریباً 6 لاکھ روپے۔ میری والدہ اور میرا بھائی ایک ہی گھر میں ساتھ رہتے ہیں، میں ہر ماہ یہ رقم اپنی والدہ کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجتا ہوں، میری والدہ ہی اپنے، میرے بھائی اور گھر کے تمام اخراجات کا انتظام کرتی ہیں، جن میں کھانا، دوائیں، راشن اور دیگر ضروریاتِ زندگی شامل ہیں۔
میں رقم براہِ راست اپنے بھائی کو نہیں بھیجتا، کیونکہ وہ مالی معاملات ذمہ داری کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور غیر ضروری اخراجات کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ پہلے اس کی ذہنی صحت بھی متاثر رہی تھی اور اس کا کافی عرصہ علاج چلتا رہا۔ اسی وجہ سے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ رقم والدہ کے اکاؤنٹ میں بھیجوں تاکہ وہ اس کے اور گھر کے ضروری اخراجات صحیح طریقے سے پورے کر سکیں۔
میرے بھائی کی آمدنی بہت کم ہے، وہ تقریباً 5,000 روپے ماہانہ کماتا ہے اور اس کے پاس کوئی ایسی ملکیت یا مال نہیں ہے جو نصاب کے برابر ہو۔ میری والدہ کے پاس صرف وہ فلیٹ ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہیں، اس کے علاوہ ان کے پاس بھی نصاب کے برابر کوئی مال نہیں۔ میری معلومات کے مطابق میری والدہ اور میرا بھائی دونوں زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔
میں اپنے بھائی کے حصے کے لیے اپنی طرف سے زکوٰۃ کی نیت کرتا ہوں، جبکہ اپنی والدہ کے حصے کے لیے اپنی اہلیہ کی طرف سے زکوٰۃ کی نیت کرتا ہوں۔
میں ہر سال الگ سے زکوٰۃ کا حساب نہیں کرتا، کیونکہ میری اور میری اہلیہ دونوں کی واجب الادا زکوٰۃ اس سالانہ رقم (6 لاکھ روپے) سے بہت کم ہوتی ہے۔ زکوٰۃ کی مقدار سے زائد جو رقم ہوتی ہے، اسے میں عام مالی مدد اور تعاون سمجھتا ہوں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طریقے سے زکوٰۃ ادا کرنا شرعاً درست ہے؟ خصوصاً اس صورت میں جبکہ رقم والدہ کے اکاؤنٹ میں بھیجی جاتی ہے، وہی گھر کے تمام اخراجات کا انتظام کرتی ہیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب: اگر آپ کی اہلیہ اپنی زکوٰۃ کی رقم آپ کی والدہ کو دینا چاہیں اور آپ کی والدہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوں تو ایسا کرنا جائز ہے اور اس سے آپ کی اہلیہ کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اسی طرح اگر آپ کا بھائی شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہو تو آپ اپنی زکوٰۃ اسے دے سکتے ہیں۔
البتہ چونکہ آپ اپنی والدہ کو اپنی اور اپنی بیوی کی زکوٰۃ کی رقم بلا امتیاز دیتے ہیں، جسے وہ اپنی ذاتی ضروریات کے ساتھ گھر کے مشترکہ اخراجات میں بھی استعمال کرتی ہیں، اس لیے آپ کی زکوٰۃ کی رقم کا وہ حصہ جو والدہ ہی پر خرچ ہو جاتا ہے، اتنی رقم کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی زکوٰۃ کی رقم اپنے مستحق بھائی کو دے دیں، جب وہ اس رقم پر مکمل قبضہ کرکے اس کا مالک بن جائے، پھر وہ اپنی خوشی اور رضامندی سے رقم والدہ کو اخراجات کے لیے دے دے تو اس صورت میں آپ کی زکوٰۃ بھی صحیح طور پر ادا ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (50/2، ط: دار الکتب العلمیۃ)
ویجوز دفع الزکاۃ الی من سوی الوالدین والمولودین من الاقارب ومن الاخوۃ والاخوات وغیرہم، لانقطاع منافع الاملاک بینھم.

الهندية: (190/1)
وَالْأَفْضَلُ فِي الزَّكَاةِ وَالْفِطْرِ وَالنَّذْرِ الصَّرْفُ أَوَّلًا إلَى الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ ثُمَّ إلَى أَوْلَادِهِمْ۔

الدر المختار مع رد المحتار: (346/2، ط: دارالفکر)
"(ولا) إلى (من بينهما ولاد)
(قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال، هداية۔ والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادةً وولاداً مغرب، أي أصله وإن علا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما، وفرعه وإن سفل بفتح الفاء من باب طلب والضم خطأ؛ لأنه من السفالة وهي الخساسة مغرب، كأولاد الأولاد، وشمل الولاد بالنكاح والسفاح، فلا يدفع إلى ولده من الزنا ولا من نفاه كما سيأتي، وكذا كل صدقة واجبة كالفطرة والنذر والكفارات، وأما التطوع فيجوز بل هو أولى، كما في البدائع، وكذا يجوز خمس المعادن؛ لأن له حبسه لنفسه إذا لم تغنه الأربعة الأخماس، كما في البحر عن الإسبيجابي، وقيد بالولاد؛ لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة.
وفي الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران، ولو دفع زكاته إلى من نفقته واجبة عليه من الأقارب جاز إذا لم يحسبها من النفقة بحر وقدمناه موضحا أول الزكاة.
ويجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته، تتارخانية".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat