سوال:
ایک صاحب کے پاس ایک دکان ہے، پچھلے 2 سال سے دکان کا مال اُدھار پر ہے، اُدھار کی رقم 7 لاکھ 50 ہزار ہے، اس کے علاوہ نصاب کی اور کوئی چیز نہیں، نہ مال تجارت، نہ ہی ضرورت سے زادہ سامان اور نہ نقدی، جو رقم دکان سے آتی ہے وہ گھر کے خرچے میں ادا ہونے کے بعد کچھ نہیں بچتی، مہینہ بمشکل گزر جاتا ہے، کیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی؟ نیز زکوٰۃ کا بھی بتا دیں کہ 2 سال ہو گئے، سال گزر جانے پر کوئی رقم جمع نہ ہو جس سے اُدھار ادا کیا جاسکے، ہر مہینے دکان کی آمدن سے منافع سے ایک طے شدہ رقم 30000 سے 25000 نکالی جاتی ہے تو کیا زکوة واجب ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر دکان میں موجود سامانِ تجارت کی مالیت ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت سے کم ہو یا اس کے برابر یا زیادہ ہو، لیکن مذکورہ قرضہ منفی کرنے کے بعد اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کم رہتی ہو اور اس کے علاوہ مذکورہ شخص کے پاس کوئی نقدی یا سونا چاندی نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
نیز قربانی کے واجب ہونے میں چونکہ ضرورت سے زائد مال کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر مذکورہ شخص کے پاس نقدی وغیرہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ضرورت سے زائد سامان ہو تو قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: (259/2، ط: دار الفکر)*
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام) ... (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)".
*المحیط البرھانی: (86/6، ط: دار الکتب العلمیة)*
وشرط وجوبها اليسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم، أو عشرون ديناراً، أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومتاعه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی