resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ہدیہ میں دی گئی رقم سے اپنی زکوۃ ادا کرنا

(60487-No)

سوال: السلام علیکم ،حضرت! میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک رشتہ دار نے مجھے نفلی صدقہ کی نیت سے کچھ رقم بطور ہدیہ دی ہے۔ کیا اس رقم کا مالک بننے کے بعد میں چونکہ صاحبِ نصاب ہوں، اس رقم سے اپنی زکوٰۃ ادا کرسکتا ہوں؟

جواب: واضح رہے کہ ہدیہ بھی دیگر اسبابِ ملکیت کی طرح ملکیت کا ایک سبب ہے، لہذا ہدیہ کے طور پر جو رقم آپ کو دی گئی ہے آپ اس کے مالک بن چکے ہیں اور آپ اسے جہاں چاہے خرچ کرسکتے ہیں، موجودہ صورت میں صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے آپ اس رقم سے اپنے مال کی زکوة بھی نکال سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

*بدائع الصنائع: (2/ 47، ط: دار الکتب العلمية)*
وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة.

*الدر المختار: (6/ 463، ط: دار الفکر)*
اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء.

*درر الحكام شرح مجلة الأحكام: (المادة: 1192، 473/1، ط: دار الکتب العلمية)*
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat