سوال:
جناب حضرت مفتی صاحب! میرے ایک قریبی دوست نے 2 جولائی 2018 کو تقریباً 9,224 شیئرز (فی شیئر 19.20 روپے) کی صورت میں 177,101 روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ رقم حلال شیئرز میں لگائی گئی تھی۔ بعد ازاں انتظامیہ نے گاہکوں کی یہ سرمایہ کاری ایک دوسری انتظامیہ کو فروخت کر دی، جس نے میرے دوست کو بتائے بغیر یہ رقم سودی (interest bearing) سرمایہ کاری میں لگا دی۔
نتیجتاً 2 جولائی 2018 سے لے کر 5 مئی 2026 تک (یعنی تقریباً 8 سال) میرے دوست کو اس سرمایہ سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا، کیونکہ یہ رقم اس کی اجازت اور معلومات کے بغیر سودی منافع والے کام میں رکھی گئی تھی۔ بعد میں جب دوست کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس نے 5 مئی 2026 کو پوری رقم نکال لی، جو اس وقت تقریباً 358,110 روپے بن چکی تھی۔
براہ کرم رہنمائی فرمائیں: کیا 2 جولائی 2018 سے 5 مئی 2026 کے درمیان کی مدت پر اس رقم میں زکوٰۃ واجب ہے؟ (جبکہ دوست کو نہ تو اس رقم پر کوئی کنٹرول حاصل تھا اور نہ ہی اسے سودی منافع کی اطلاع تھی) یا زکوٰۃ صرف 5 مئی 2026 کے بعد (جب رقم دوست کے قبضے میں آئی) سے ادا کی جائے گی جب تک یہ اس کے پاس رہے؟ جزاک اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس تاریخ کو کوئی شخص نصاب کا مالک بنا ہے، اس سے ایک سال گزرنے کے بعد اسی تاریخ کو اگر وہ شخص نصاب کے برابر یا اس سے زائد قابلِ زکوٰۃ مال کا مالک ہو تو ایسی صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، جبکہ حرام مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل حکم یہ ہے کہ اگر اصل مالک معلوم ہو تو اسے واپس کرنا ضروری ہے، اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر اسے صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں سودی سرمایہ کاری (Interest Bearing Investment) سے حاصل ہونے والی اضافی رقم چونکہ حرام ہے، اس لیے یہ اضافی رقم (181,009 روپے) واجب التصدق ہے، یعنی اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہے۔
البتہ اصل سرمایہ (قابلِ زکوٰۃ رقم) جو 177,101 روپے ہے (جو جولائی 2018 میں انویسٹ کیا گیا تھا)، اگر یہ رقم دیگر اموال زکوة (جیسے نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت) کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچتی ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
نیز اگر اس مال پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی تو ان سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا لازم ہوگی۔
گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایک سال کی زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے، پھر پہلی زکوۃ کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے اور وہ نصاب تک پہنچتی ہو تو دوسرے سال اس مال کی زکوٰۃ نکالی جائے، اسی طرح دوسرے سال کی زکوٰۃ منہا کرنے کے بعد اگر بقایا رقم نصاب تک پہنچتی ہو تو تیسرے سال اس مال کی زکوٰۃ اداکی جائے۔ اسی طرح جتنے سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی، ان کا حساب اس طریقہ پر کیا جائے۔
باقی یہ کہنا کہ یہ رقم اس دورانیہ میں آپ کے دوست کے قبضہ یا کنٹرول میں نہیں تھی، درست نہیں، کیونکہ اس صورت میں ادارہ / انتظامیہ آپ کے دوست کی طرف سے وکیل ہے، اور وکیل کا قبضہ موکّل ہی کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ سرمایہ کار کو رقم نکلوانے کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ 2026 میں آپ کے دوست نے رقم واپس حاصل کی، لہٰذا یہ کہنا کہ پیسوں پر کنٹرول نہیں تھا، شرعاً درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*رد المحتار: (مطلب فیما لو صادر السلطان جائرًا فنوی بذٰلک أداء الزکاۃ، 291/2، ط: سعید)*
لو کان الخبیث نصابًا لا یلزمہ الزکاۃ؛ لأن الکل واجب التصدق علیہ … الخ، ما وجب التصدق بکلہ، لا یفید التصدق ببعضہ؛ لأن المغصوب إن عُلمت أصحابہ أو ورثتہم وجب ردہ علیہم، وإلا وجب التصدق بہ۔
*الفتاوى الهندية: (181/1، ط: دار الفکر)*
رجل له ألف درهم لا مال له غيرها استأجر بها دارا عشر سنين لكل سنة مائة فدفع الألف، ولم يسكنها حتى مضت السنون والدار في يد الآخر يزكي الآجر في السنة الأولى عن تسعمائة، وفي الثانية عن ثمانمائة إلا زكاة السنة الأولى ثم سقط لكل سنة زكاة مائة أخرى، وما وجب عليه بالسنين الماضية، ولا زكاة على المستأجر في السنة الأولى والثانية بنقصان نصابه في الأولى وعدم تمامه في الثانية ويزكي في الثالثة ثلثمائة ثم يزكي لكل سنة مائة أخرى، وما استفاد قبلها إلا أنه يرفع عنه زكاة السنين الماضية.
والله تعالىٰ أعلم بالصواب
دارالافتاء الإخلاص،کراچی