سوال:
مفتی صاحب! اگر والدین چھوٹے بچوں کے نام سے بینک میں یا گھر کی گُلک میں پیسے جمع کریں، اور ان پیسوں میں سے صرف بچوں ہی کی ضروریات پر خرچ کریں، اپنے اوپر خرچ نہ کریں، تو کیا اس مال پر زکوٰۃ لازم ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر والدین بینک اکاؤنٹ یا گُلک (بچت بکس) میں باقاعدہ بچوں کی ملکیت کے طور پر رقم جمع کراتے ہوں، اور بچوں کو بھی اس سے باخبر کیا جاتا ہو، نیز یہ رقم صرف انہیں کی ضرورت میں خرچ کی جاتی ہو تو یہ رقم چھوٹے بچوں کی ملکیت شمار ہوگی، لہٰذا اس کی زکوٰۃ والدین یا بچوں میں سے کسی پر واجب نہیں ہوگی، البتہ بچوں کے بالغ ہونے کے بعد زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط کی روشنی میں اس پر زکوٰۃ کا حکم لاگو ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الدر المختار مع رد المحتار: میں (694/5، ط: دار الفکر)*
(وهبة من له ولاية على الطفل في الجملة) وهو كل من يعوله فدخل الأخ والعم عند عدم الأب لو في عيالهم (تتم بالعقد) لو الموهوب معلوما وكان في يده أو يد مودعه، لأن قبض الولي ينوب عنه، والأصل أن كل عقد يتولاه الواحد يكتفى فيه بالإيجاب.
(قوله: ولو الموهوب إلخ) لعله احتراز عن نحو وهبته شيئا من مالي تأمل، (قوله: معلوما) قال محمد - رحمه الله -: كل شيء وهبه لابنه الصغير، وأشهد عليه، وذلك الشيء معلوم في نفسه فهو جائز، والقصد أن يعلم ما وهبه له، والإشهاد ليس بشرط لازم لأن الهبة تتم بالإعلام تتارخانية.
*الفتاوى الهندية: (172/1، ط: دار الفكر)*
(ومنها العقل والبلوغ) فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها هكذا في الجوهرة النيرة فلو أفاق في جزء من السنة بعد ملك النصاب في أولها وآخرها قل ذلك أو كثر يلزمه الزكاة كذا في العيني شرح الهداية وهو ظاهر الرواية هكذا في الكافي.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی