سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! 1980 میں میری شادی ہوئی، میرے پاس اس وقت نو (9)تولہ سونا تھا، میں نے 1981 میں اس وقت کی قیمت کے مطابق زکوٰۃ ادا کی، پھر 1981 سے 1992تک یہ سونا موجود تھا، لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ پھر 2020 میں میں نے اس زکوٰۃ کو ادا کرنے کےلیے1993 کے سونے کی قیمت کے مطابق زکوٰۃنکالی، جو کہ 45000 بن رہی تھی اورادا 2020میں کی، لیکن بعد میں مجھے پتہ چلا کہ جس وقت آپ زکوۃ ادا کرتے ہو تو اس وقت کے سونے کی قیمت کے مطابق ادا کرنا ہوگا، حالانکہ 2020 میں میرا رادہ مکمل زکوٰۃ ادا کرنے کا تھا، جو میرے خیا ل میں میں نے ادا کردیا تھا۔
اب سوال یہ ہےکہ کیا میں اب2020میں جو سونے کی قیمت تھی اس کے مطابق اپنی زکوٰۃ نکالوں گی یا ابھی 2026میں اگر ادا کروں گی تو اس وقت کے سونے کی قیمت کے مطابق ادا کروں گی؟حالانکہ 2020 میں میرا رادہ مکمل زکوٰۃ ادا کرنے کا تھا۔
جواب: واضح رہے کہ زکوة کے مال پر سال پورا ہونے پر زکوة کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے، جس ميں بلا عذر تاخیر کرنا گناہ ہے، نیز واضح رہے کہ سونے کی زکوة میں اصل یہ ہے کہ زکوة سونے میں ہی ادا کی جائے، لیکن زکوة دینے والے کی آسانی کو مدِّنظر رکھتے ہوئے شریعت نے سونے کے بجائے اس کی قیمت دینے کے بھی گنجائش دی ہے، اس لیے ادائیگی کے وقت یا تو سونے کی زکوة سونے میں اداکی جائے یا اس کی ادائیگی کے وقت کی قیمت ادا کی جائے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زکوة میں ادائیگی والے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا، یعنی آپ جس وقت زکوة ادا کریں گی، اسی وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا، مثلاً: جتنے سالوں کی زکوة آپ نے 2020 میں ادا کی، ان کا حساب 2020 کی قیمت کے مطابق ہوگا، اور جن سالوں کی زکوة ابھی 2026 میں ادا کریں گی، ان میں موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔
گزشتہ سالوں کی زکوة نکالنے کا عملی طریقہ کار یوں ہوگا کہ آپ کی ملکیت میں موجود سونے کی قیمت لگاکر گزشتہ سالوں میں سے پہلے سال کی زکوة سونے کی ادائیگی کے دن کی قیمت کے مطابق کل رقم کا ڈھائی فیصد حصہ ادا کردیں، پھر دوسرے سال کی زکوة کے لیے گزشتہ سال کی ادا شدہ زکوة کی رقم منہا کر کے باقی ماندہ رقم کا ڈھائی فیصد دوسرے سال کی زکوة ادا کریں ،پھر اسی طرح ہر سال کی اداشدہ زکوة کو منہا کرکے بقیہ تمام سالوں کی زکوة ادا کریں۔
البتہ اگر اس صورت پر کسی کیلئے عمل مشکل ہو، یعنی سونے کی موجودہ قیمت کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنے کی صورت میں زکوٰۃ کی مقدار اتنی زیادہ بنتی ہو کہ اس کی ادائیگی کی صورت میں سخت مشکل اور حرج ہو، تو پچھلے جس سال کی زکوۃ کی ادائیگی باقی ہے، اُسی سال کی قیمت کے حساب سے بھی زکوۃ ادا کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (2 / 305، ط: دار الفكر)
وذكر في المنتقى رجل له ثلاثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين ولا شيء عليه في الفضل لأنه دون الأربعين.
العناية شرح الهداية: (2/ 155، ط: الحلبي)
«وقوله (ثم قيل هي واجبة على الفور) وهو قول الكرخي، فإنه قال: يأثم بتأخير الزكاة بعد التمكن. وروي عن محمد: من أخر الزكاة من غير عذر لا تقبل شهادته. وفرق بينها وبين الحج فقال: لا يأثم بتأخير الحج ويأثم بتأخير الزكاة لأن في الزكاة حق الفقراء فيأثم بتأخير»
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (2/ 22، ط: دار الكتب العلمية)
«۔۔۔وعند أبي يوسف ومحمد إن أدى من عينها يؤدي خمسة أقفزة في الزيادة والنقصان جميعا، كما قال أبو حنيفة: وإن أدى من القيمة يؤدي في النقصان درهمين ونصفا وفي الزيادة عشرة دراهم؛ لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة.»
تبويب فتاویٰ دار العلوم کراتشی: (رقم الفتوی: 24/1665)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی