resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: والدین کے ایصالِ ثواب کی نیت سے بہن کو نفلی صدقہ دینا

(41987-No)

سوال: السلام علیکم! میری بہن کے پاس اپنا مکان ہے مگر آمدنی کے ذرائع محدود ہیں، وہ اور اس کا شوہر اخراجات پورے کرنے کیلئے اضافی کام بھی کرتے ہیں اس وقت جو مال انہوں نے خرید کر مارکیٹ میں سپلائی کیا ہے، اس کی واپسی ممکن نہی ہورہی اور جن سے مال خریدا ہے وہ تقاضا کررہے ہیں تو کیا ہم صدقہ کی وہ رقم جو والدین کے لیے ہے ان کو دے سکتے ہیں، اس نیت سے کہ اس کا ثواب والدین کو پہنچے؟

جواب:
واضح رہے کہ نفلی صدقہ اپنے بہن بھائیوں کو دینا نہ صرف جائز ہے، بلکہ صلہ رحمی کی وجہ سے دوہرے اجر کا باعث ہے، لہذا اگر آپ اپنی بہن کو تعاون کی نیّت سے صدقہ کی رقم دینا چاہتے ہیں تو دے سکتے ہیں، نیز اگر اس صدقے میں ایصالِ ثواب کی نیت بھی کر لی جائے تو ان شاء اللہ اس کا ثواب والدین کو بھی پہنچے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن النسائي:(کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر:2582)*
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ : صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ".

*مجمع الزوائد:(حدیث نمبر: 4769)*
وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا تصدق بصدقة تطوعاً أن یجعلها عن أبویه فیکون لهما أجرها، ولاینتقص من أجره شیئا

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat