سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ پچھلے سال میری بیوی نے زکوٰۃ نکالی تھی لیکن ابھی تک کسی کو دی نہیں تھی کہ اسی دوران میری بائیک کے ساتھ ایک خاتون کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جو بہت غریب تھی اور گھروں میں کام کرتی تھی، اور اس حادثے میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔
میری بیوی نے اپنی زکوٰۃ میں سے مجھے پیسے دیے کہ ان پیسوں سے اس خاتون کا علاج کروایا جائے، چنانچہ تقریباً 60 ہزار روپے اس کے علاج پر خرچ کیے گئے، کیا اس طرح کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو گئی؟
تنقیح: السلام علیکم، محترم! براہِ کرم اس امر کی وضاحت فرمادیں کہ جس خاتون کا آپ کی موٹر سائیکل سے حادثہ پیش آیا تھا، کیا اس کا علاج کروانا آپ کے ذمے لازم تھا یا آپ محض تبرع اور احسان کے طور پر اس کا علاج کروا رہے تھے؟
جواب تنقیح:
نہیں لازم تو نہیں تھا یہ ایک اتفاقاً حادثہ ہو گیا، ان کے بقول وہ غریب ہیں اور علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے وگرنہ تو ہم کچھ پیسے دے کر معاملہ سیٹ کر دیتے چونکہ ان کا بیٹا روڈ حادثے میں ٹانگ ٹوٹنے کی وجہ سے اسپتال داخل تھا لہذا ہم نے سوچا کہ ان کا علاج کروا دیا جائے۔
تنقیح ثانی: السلام علیکم محترم! کیا آپ نے انہیں واضح طور پر بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے اور اسی سے آپ کا علاج کروایا جا رہا ہے؟ اگر ہاں، تو کیا انہوں نے اس کی اجازت بھی دی تھی؟
جواب تنقیح ثانی: نہیں! ان کو ایسا کچھ نہیں بتایا تھا۔
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مستحق شخص کو زکوة کی رقم باقاعدہ مالک بنا کر حوالے کی جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی نیت سے علیحدہ کی گئی رقم میں سے جو رقم آپ نے اس مریضہ عورت کی اجازت کے بغیر ان کے علاج و معالجہ کے اخراجات، مثلاً ڈاکٹر اور ہسپتال وغیرہ کی فیس میں خرچ کی ہے، وہ زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں تملیک نہیں پائی جارہی، اس لیے اتنی رقم کی زکوٰۃ آپ کی اہلیہ کو دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگی، البتہ جس قدر رقم سے آپ نے دوائیاں خرید کر اس مستحق عورت کے حوالے کردی تھیں، اتنی مقدار میں زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار مع رد المحتار: (256/2، ط: سعید)*
وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض
(قوله: إلا إذا دفع إليه المطعوم) لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه ... الخ
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی