resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آن لائن تعلیمی ایپس کے غیر سرکاری مواد کے استعمال کی شرعی حیثیت اور کمائی پر اثرات

(39925-No)

سوال: میں ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ ہوں اور پوسٹ گریجویٹ انٹری امتحانات کی تیاری کر رہا ہوں۔ میں آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز جیسے Marrow اور PrepLadder استعمال کرتا ہوں، جہاں ویڈیو لیکچرز، نوٹس اور سوالات کے بینک فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارمز وقتاً فوقتاً اپنے مواد کو اپڈیٹ کرتے رہتے ہیں (ایڈیشن 1، 2، 3 وغیرہ)، اور پرانے ایڈیشنز کو اپنے سسٹم سے ہٹا دیتے ہیں۔ ایک طالب علم جس نے پرانے ایڈیشن سے پڑھا ہو، اس نے انہی ویڈیوز سے تفصیلی نوٹس بھی بنا لیے ہوتے ہیں۔
اب کچھ سال بعد، پلیٹ فارم صرف نیا ایڈیشن فراہم کرتا ہے اور پرانا ورژن خریدنے یا حاصل کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہوتا، چاہے کوئی پیسے دینے کے لیے تیار بھی ہو۔
مسئلہ یہ ہے کہ نوٹس کو اپڈیٹ کرنے کے لیے سینکڑوں گھنٹوں (تقریباً 500–700 گھنٹے) کی ویڈیوز دوبارہ دیکھنا پڑیں گی، جو محدود وقت میں بہت مشکل ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پرانے ایڈیشن کی ویڈیوز غیر سرکاری ذرائع (جیسے ٹیلیگرام) پر دستیاب ہیں، لیکن یہ کمپنی کی اجازت کے بغیر ہوتی ہیں، یعنی یہ غیر قانونی (pirated) ہوتی ہیں۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1. اگر پرانا ایڈیشن آفیشل پلیٹ فارم سے خریدنے یا حاصل کرنے کے لیے دستیاب نہ ہو، تو کیا صرف ذاتی مطالعہ اور نوٹس کی تسلسل کے لیے ایسے غیر سرکاری ذرائع استعمال کرنا جائز ہے؟
2. اگر طالب علم نے موجودہ ایڈیشن کی باقاعدہ سبسکرپشن خرید رکھی ہو (یعنی وہ مالی طور پر پلیٹ فارم کو سپورٹ بھی کر رہا ہو)، لیکن صرف اس لیے پرانے ایڈیشن کی ویڈیوز استعمال کرے کہ وہ آفیشلی دستیاب نہیں تو کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟
3. اگر وہ شبہ سے بچنے کے لیے ان ذرائع سے مکمل اجتناب کرے اور صرف اپنے پرانے نوٹس اور نئے ایڈیشن سے منتخب طور پر اپڈیٹ کرے تو کیا یہ زیادہ محفوظ اور احتیاط والا طریقہ ہوگا؟
4. اگر کسی نے ماضی میں ضرورت کے تحت ایسے غیر سرکاری (pirated) مواد استعمال کیا ہو، تو کیا اس سے اس کی مستقبل کی کمائی (بطور ڈاکٹر) پر کوئی اثر پڑے گا؟
میں جدید ڈیجیٹل تعلیمی مواد اور تعلیمی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی رہنمائی کی درخواست کرتا ہوں۔

جواب: 1) اصولی طور پر عصرِ حاضر کے جید علمائے کرام اور "مجمع الفقه الإسلامي" (اسلامک فقہ اکیڈمی) کے مطابق کاپی رائٹس اور انٹلیکچوئل پراپرٹی (Intellectual Property) کی شرعی حیثیت مسلّم ہے۔ کسی کمپنی کے مواد کو ان کی اجازت کے بغیر کاپی کرنا یا اسے مفت فراہم کرنا ناجائز ہے۔ اگر کمپنی نے پرانا ایڈیشن ہٹا دیا ہے، تب بھی اس مواد کی ملکیت انہی کی ہے۔ محض اس وجہ سے کہ وہ چیز اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں، کسی دوسرے کے لیے اسے غیر قانونی طور پر تقسیم کرنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا اصولی طور پر جائز نہیں ہو جاتا۔
2) یہ صورتِ حال پچھلی صورت سے قدرے مختلف ہے۔ اگر آپ نے پلیٹ فارم (جیسے Marrow یا PrepLadder) کی موجودہ سبسکرپشن کے لیے باقاعدہ فیس ادا کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اس کمپنی کو ان کے تعلیمی مواد سے فائدہ اٹھانے کا مالی حق (Financial Right) ادا کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ صرف اپنے پرانے نوٹس کی ترتیب کو برقرار رکھنے اور وقت بچانے کے لیے (نہ کہ اسے آگے بیچنے یا دوستوں میں مفت بانٹنے کے لیے) پرانے ایڈیشن کی ویڈیوز ذاتی حد تک استعمال کرتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کو آپ کی طرف سے کوئی مالی نقصان (ضررِ مالی) نہیں پہنچ رہا، کیونکہ آپ ان کے بامعاوضہ صارف (Paid Subscriber) ہیں۔ یہ محض ایک ہی مواد کی مختلف شکل (Version) سے فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔
3) اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ غیر سرکاری (pirated) ذرائع سے مکمل اجتناب کرتے ہیں تو یہ عزیمت (بہترین راستے) اور تقویٰ کی بات ہے۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جس میں شک نہ ہو"۔ (جامع الترمذي، حدیث نمبر: 2518) اگر آپ پرانے نوٹس سامنے رکھ کر نئے ایڈیشن سے صرف وہ چیزیں اپڈیٹ کر لیں جو بدل گئی (Selective Updates) ہیں تو یہ طریقہ شرعی طور پر سب سے زیادہ محفوظ، بے غبار اور دلی اطمینان کا باعث ہوگا۔
4)شرعی اصول یہ ہے کہ کسی غصب شدہ (یا غیر قانونی) کتاب، ویڈیو یا ذریعے سےعلم اور ہنر حاصل کرنے کا عمل گناہ ضرور ہے ، البتہ اس علم اورہنرسےحاصل کمائی کوحرام نہیں کہاجاسکتا۔ بطور ڈاکٹر آپ کی کمائی کا دار و مدار آپ کی دی گئی طبّی خدمات (Medical Services)، مہارت اور وقت پر ہوتا ہے۔ چونکہ آپ کا علاج کرنا اور مریضوں کو وقت دینا ایک حلال عمل ہے، اس لیے آپ کی کمائی (Income) حلال اور پاکیزہ ہوگی۔ ماضی میں اگر کسی نے لاعلمی یا مجبوری میں غیر قانونی مواد استعمال کیا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کر لینا چاہیے، لیکن اس کی وجہ سے مستقبل کی پیشہ ورانہ کمائی پر کوئی شرعی زد نہیں پڑتی۔
خلاصہِ کلام: اگر آپ نے ایپ کی فیس ادا کی ہوئی ہے تو ذاتی مطالعے کے لیے پرانی ویڈیوز دیکھنے کی گنجائش نکل سکتی ہے، لیکن اگر آپ ان ذرائع کو چھوڑ کر اپنے موجودہ نوٹس کو نئے لیکچرز کے ساتھ تھوڑی اضافی محنت کر کے ہم آہنگ کر لیں تو یہ شرعاً سب سے محفوظ، بابرکت اور بہترین طریقہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

قرار مجمع الفقه الإسلامي الدولي، جدہ، رقم: 43 (5/5)
"الاسم التجاري، والعنوان التجاري، والعلامة التجارية، والتأليف والاختراع أو الابتكار، هي حقوق خاصة لأصحابها، أصبح لها في العُرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها، وهذه الحقوق يعتد بها شرعاً، فلا يجوز الاعتداء عليها."

سنن الترمذي: أبواب الأحكام(حدیث رقم: 1352)
"الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ، إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حلالاً، أَوْ أَحَلَّ حراماً."

سنن ابن ماجه: كتاب الأحكام(حدیث رقم: 2340)
"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ."

المجلة لأحكام العدلية، القواعد الفقهية:(المادة: 20)
"الضَّرَرُ يُزَالُ."

جامع الترمذي: (صفة القيامة والرقائق والورع، رقم الحدیث : 2518)
"دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ."

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things