سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت یہ مسئلہ کسی نے پوچھا ہے، برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرما دیجیے ۔
"میری بیٹی کا نام آئرہ (Aairah) ہے اور جب ہم نے یہ نام رکھا تھا تو ہمیں اس کے معنی “باعزت خاتون” بتائے گئے تھے، لیکن اب اس نام کے حوالے سے ایک ویڈیو دیکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کے معنی اچھے نہیں ہیں۔
1) کیا واقعی اس نام کے اصل اور درست معنی یہی ہیں یا کچھ اور ہیں؟
2) اور کیا اس نام کا مستقبل میں بچی کی شخصیت یا زندگی پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟
3) کیا صرف خدیجہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا خدیجہ فاطمہ رکھنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے؟ اس بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
جواب: 1) "عائرہ" ((Aairah)) كا لفظ عربی زبان کا لفظ ہے، جو "عور" يا "عير" سے ماخوذ ہے، جس كے کئی معانی ہیں، مثلاً: وہ گری ہوئی چیز جس کا مالک معلوم نہ ہو، وہ بکری جو دو ریوڑوں کے درمیان متردّد ہو کہ کس ریوڑ کی ہے اور کس کے پیچھے جائے، اسی طرح اور بھی کافی معانی ہیں، جس میں سے زیادہ تر غیر مناسب ہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی بچی کا نام تبدیل کرکے ازواجِ مطہراتؓ، صحابیاتؓ یا کوئی بھی اچھے معنیٰ والا نام رکھ لیں۔
2) بعض مرتبہ نام کا تھوڑا بہت اثر سبب کے درجے میں ہوسکتا ہے، حضورﷺ نے بعض ایسے ناموں کو تبدیل فرمایا ہے جن کے معانی اچھے نہیں تھے، لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے، کوئی بھی چیز اللہ کے حکم اور منشا کے بغیر اثر انداز نہیں ہوتی، اس لیے نام تبدیل کرنے کے ساتھ اصل توجہ بچی کی تربیت کی طرف کرنی چاہیے، اور اللہ تعالٰی سے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
3) خدیجہ حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا اسم گرامی ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ مطہّرہ ہیں، اور سیدہ فاطمۃؓ کی والدہ ماجدہ ہیں، ان کے نام کے مطابق خدیجہ نام رکھنا جائز ہے، اور خدیجہ فاطمہ نام رکھنا بھی جائز ہے۔ دونوں اچھے ناموں میں سے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
كنز العمال: (رقم الحديث: 45228، ط: مؤسسة الرسالة)
أول ما ينحل الرجل ولده اسمه فليحسن أسمه. "أبو الشيخ في الثواب - عن أبي هريرة"».
لسان العرب: (4/ 622، ط: دار صادر)
«الْعَائِرَةُ: السَّاقِطَةُ لَا يُعْرَف لَهَا مَالِكٌ، مِنْ عارَ الفرسُ إِذا انْطَلَقَ مِنْ مرْبطه مَارًّا عَلَى وَجْهِهِ؛ وَمِنْهُ الْحَدِيثُ:
مَثلُ المُنافِق مَثَلُ الشاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ غَنَمْينِ۔ أَي الْمُتَرَدِّدَةُ بَيْنَ قَطِيعين لَا تَدْري أَيّهما تَتْبَع. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْكَلْبِ الَّذِي دَخَلَ حائِطَه: إِنما هُوَ عائرٌ»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی