سوال:
میں ایک لکھاری/رول پلیئر ہوں اور میں یہ رہنمائی چاہتا ہوں کہ اپنی کہانیوں میں شرک یا کفر سے کیسے بچا جائے۔ کیا افسانوی اقوام (races) کے لیے “Lung”، “Ryu”، “Oni” یا “Wendigo” جیسے الفاظ استعمال کرنا جائز ہے؟ کیا ان الفاظ میں کوئی لازمی الٰہی مفہوم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں عام (مخلوق/فانی) کرداروں کے لیے استعمال کرنا مسئلہ بن سکتا ہے؟
کیا ایسی مخلوق کے بارے میں لکھنا درست ہے جن کی شکل “شیطانی” ہو (جیسے سینگ یا دم وغیرہ)، اگر انہیں روحانی شیاطین کے بجائے ایک حیاتیاتی مخلوق (مثلاً ایلین) کے طور پر پیش کیا جائے؟
کیا غیر معمولی صلاحیتیں جیسے بہت تیز شفا (regeneration)، یا “شفا دینے والا خون” (جو دوسروں کے لیے تقویت کا باعث بنے)، مذہبی اعتبار سے حساس ہیں؟ یا نینو مشین کے ذریعے حاصل کی گئی طاقتیں؟
اگر کسی افسانوی دنیا میں “خدا جیسی” مخلوقات یا مشرکانہ عناصر ہوں، تو کیا انہیں عام انسانوں کے طور پر کم طاقتوں کے ساتھ دوبارہ لکھنا جائز ہے؟
اور کیا ایسے غیر انسانی افسانوی کرداروں پر دل آ جانا (crush ہونا) ایمان کے خلاف ہے؟
معذرت، میں بس یہ چاہتا ہوں کہ میرا شوق کفر سے پاک رہے۔
جواب: افسانوی اور خیالی کہانیاں لکھنا فی نفسہٖ(بنیادی طور پر) جائز ہے، بشرطیکہ وہ شرعی حدود کے اندر ہوں اور ان میں عقیدۂ توحید کے خلاف کسی پہلو کو شامل نہ کیا جائے۔ اس تمہید کے بعد آپ کی جانب سے فراہم کردہ سوالات کےجوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:
١) دیومالائی مخلوقات (Lung, Ryu, Oni, Wendigo) اور خیالی نسلوں سے متعلق حکم
افسانوی کہانیوں میں مختلف خیالی مخلوقات (جیسے دیومالائی نسلوں وغیرہ) کو بطورِ قصّہ بیان کرنا اور ان کے نام استعمال کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
* انہیں مخلوق اور فانی تصوّر کیا جائے۔
* ان میں خدائی صفات (جیسے خالق ہونا، علمِ غیبِ ذاتی یا کائنات کا مستقل نظام چلانا) نہ مانی جائیں۔
* انہیں محض طبعی یا تخیّلاتی اصولوں (Biological یا Fictional laws) کے تحت پیش کیا جائے۔
۲) شیطانی شکل والی مخلوق کو حیاتیاتی (Alien) طور پر پیش کرنا
اس کا بھی وہی حکم ہے جو پہلے جواب میں بیان ہوا۔ چونکہ آپ انہیں روحانی شیاطین کے بجائے محض طبعی یا تخیّلاتی اصولوں (Biological laws) کے تحت ایک حیاتیاتی مخلوق ایلین (Alien) کے طور پر پیش کر رہے ہیں، اس لیے انہیں مخلوق کے دائرے میں لانا جائز ہے۔
۳) مافوق الفطرت اور غیر معمولی صلاحیتیں (Regeneration, Healing blood, Nano-machines)
اگر کہانی میں غیر معمولی طاقتیں ذکر کی جائیں تو ان کا حکم یہ ہے کہ
* انہیں الوہیّت یا ربوبیّت کا درجہ نہ دیا جائے۔
* ان کی توجیہ کسی نہ کسی طبعی یا فرضی قانون جیسے نینو ٹیکنالوجی (Nanotechnology) یا ایک خاص حیاتیاتی نظام کے تحت کی جائے۔
* یہ اعتقاد نہ ہو کہ یہ قوّتیں مستقل بالذات اور اللہ تعالیٰ سے بے نیاز ہیں۔
۴) مشرکانہ عناصر اور معبودوں کو عام انسانوں (کمزور) کے طور پر لکھنا
ایسے کردار جو اصل دیومالا میں معبود سمجھے جاتے ہیں، اگر کہانی میں ان کی الوہیّت ختم کر دی جائے اور انہیں ایک کمزور، محدود اور عام مخلوق کے طور پر دکھایا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس میں شرک کی ترویج نہیں بلکہ اس کی نفی پائی جاتی ہے۔
۵) خیالی اور غیر انسانی کرداروں سے جذباتی وابستگی (Crush)ہونا
ایسے خیالی کرداروں کی طرف میلان کفر یا شرک نہیں، البتہ یہ لغو اور غیر مفید مشغلہ ہے اور اس میں حد سے زیادہ مشغول ہونا روحانی و نفسیاتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب بہتر ہے۔
ایک مسلمان لکھاری کے لیے اصولی ہدایات:
* ضروری ہے کہ لکھاری کسی بھی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے برابر یا اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔
* کائنات کا نظام کسی غیر اللہ کے سپرد نہ کرے۔
* شعائرِ اسلام کی توہین یا تحقیر نہ کرے۔
* اپنی کہانی کے قوانین (Magic System / Worldbuilding) کو اس طرح ترتیب دے کہ وہ مخلوق کے دائرے میں رہیں، نہ کہ الوہیّت کے۔
* بہتر ہے کہ کہانیاں سبق آموز اور عبرت کے لیے ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ افسانوی کہانیاں لکھنا اور ان میں خیالی مخلوقات و غیر معمولی صلاحیتوں کا ذکر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ ان میں شرک، کفر یا توہینِ دین کا کوئی پہلو نہ ہو، اور تمام کرداروں کو مخلوق اور محدود حیثیت میں پیش کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (6 / 404 ،دار الفكر-بيروت)
"وحديث: «حدثوا عن بني إسرائيل» يفيد حل سماع الأعاجيب والغرائب من كل ما لايتيقن كذبه بقصد الفرجة لا الحجة بل وما يتيقن كذبه لكن بقصد ضرب الأمثال والمواعظ وتعليم نحو الشجاعة على ألسنة آدميين أو حيوانات ذكره ابن حجر."
رد المحتار: (دار الفكر، بيروت)
"(قوله: وحديث: «حدثوا عن بني إسرائيل» ) تمامه " ولا حرج " أخرجه أبو داود وفي لفظ لأحمد بن منيع عن جابر «حدثوا عن بني إسرائيل فإنه كان فيهم أعاجيب» وأخرج النسائي بإسناد صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج وحدثوا عني ولا تكذبوا علي» " فقد فرق عليه الصلاة والسلام بين الحديث عنه والحديث عنهم، كما نقله البيهقي عن الشافعي (قوله: بقصد الفرجة لا الحجة) الفرجة مثلثة التفصي عن الهم والحجة بالضم البرهان قاموس (قوله: لكن بقصد ضرب الأمثال إلخ) وذلك كمقامات الحريري، فإن الظاهر أن الحكايات التي فيها عن الحارث بن همام والسروجي لا أصل لها، وإنما أتى بها على هذا السياق العجيب لما لا يخفى على من يطالعها، وهل يدخل في ذلك مثل قصة عنترة والملك الظاهر وغيرهما، لكن هذا الذي ذكره إنما هو عن أصول الشافعية، وأما عندنا فسيأتي في الفروع عن المجتبى أن القصص المكروه أن يحدث الناس بما ليس له أصل معروف من أحاديث الأولين أو يزيد أو ينقص ليزين به قصصه إلخ فهل يقال عندنا بجوازه إذا قصد به ضرب الأمثال ونحوها يحرر.
(قوله: على ألسنة آدميين أو حيوانات) أي أو جمادات كقولهم قال الحائط للوتد لم تخرقني قال سل من يدقني."
الدر المختار : (6 / 422، ط: دار الفكر-بيروت)
"القصص المكروه أن يحدثهم بما ليس له أصل معروف أو يعظهم بما لا يتعظ به أو يزيد وينقص يعني في أصله، أما للتزين بالعبارات اللطيفة المرققة والشرح لفوائده فذلك حسن."
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) تحته، دار الفكر-بيروت)
")قوله: القصص) بفتحتين مصدر قص (قوله: يعني في أصله) أي بأن يزيد على أصل الكلام أشياء من عنده غير ثابتة أو ينقص ما يخرج المنقول الثابت عن معناه."
الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص: 56،دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)
الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على عدم الإباحة.
فتاوى قاضيخان: (3/ 361، المکتبة الشاملة)
لا يعلم الغيب إلا الله لا الجن ولا الإنس يقول الله في الإخبار عن الجن ((فلما خر تبينت الجن أن لو كانوا يعلمون الغيب ما لبثوا في العذاب المهين)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (1/ 690، دار إحياء التراث العربي)
(ألفاظ الكفر أنواع)
(ثم إن ألفاظ الكفر أنواع) (الأول فيما يتعلق بالله تعالى) إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به أو سخر باسم من أسمائه أو بأمر من أوامره أو أنكر صفة من صفات الله تعالى أو أنكر وعده أو وعيده أو جعل له شريكا أو ولدا أو زوجة أو نسبه إلى الجهل أو العجز أو النقص أو أطلق على المخلوق من الأسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن وغيرها يكفر ويكفر بقوله لو أمرني الله تعالى بكذا لم أفعل.
مسند أحمد مخرجا (3/ 259، رقم الحدیث:1737 )
عن علي بن حسين، عن أبيه، رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه»
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی