سوال:
اگر کوئی مرد یا عورت یہ کہے کہ میں فلاں کام نہیں کرتا یا کرتی، چاہے اللہ تعالی بھی اوپر سے نیچے آجائیں تو کیا ایسی بات کہنے والے کا اسلام اور نکاح باقی رہے گا؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ کہنے سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، لہذا ایسے شخص کو اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاویٰ التاتارخانیة: (485/5)
"اذا قال لوامرنی اﷲ تعالی بکذا لم افعل اوقال لوصارت القبلۃ الی ھذہ الجھۃ ماصلیت فقد کفر".
و فیها ایضاً: (461/5)
"اذاوصف اﷲ بمالایلیق بہ اوسخرباسم من اسماء اﷲ تعالی او بامر من اوامرہ اوانکر وعدہ اووعیدہ یکفر".
الھندیة: (258/2)
"یکفر اذا وصف اﷲ تعالی بمالایلیق به.…اوجعل لہ شریکااو ولدا أوزوجۃ أونسبہ الی الجھل أوالعجز أوالنقص".
الدر المختار: (193/3)
"(وارتداد احدھما) ای الزوجین (فسخ ) فلا ینقص عدداًً(عاجل ) بلا قضاء".
و فیه ایضاً: (246/4)
" مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی