عنوان: بینک کے ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم(100402-No)

سوال: مفتی صاحب ! بینک کے ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ اگر کسی جگہ ڈسکاؤنٹ ملے تو کیا وہ ڈسکاؤنٹ حلال ہے؟

جواب: ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں کچھ پیسوں کی رعایت (Discount) ملتا ہے  تو اس میں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ یہ ڈسکاؤنٹ کس کی طرف سے ہے؟

1۔اگر یہ رعایت بینک کی طرف سے ملتی ہوتو اس صورت میں اس رعایت کا حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے، جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ اگر یہ رعایت  اس ادارے کی جانب سے ہو، جہاں سے کچھ خریدا گیا ہے یا وہاں کھانا کھایا گیا ہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر رعایت دونوں کی طرف سے ہو تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت درست نہ ہوگی۔

4۔ اگر معلوم نہ ہوکہ یہ رعایت کس کی طرف سے ہے تو پھر اجتناب کرنا چاہیے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 187
Bank kay debit card par milnay walay discount ka hukm, ke, per, peh, milne, wale, debit card peh discount, concession, Kia bank kay debit count peh discount halal hay ya haram hay , Ruling of discount on Banks debit card, Order of discount on banks debit card, Shariah Rule (Law) on discount received on debit card, Islamic view on debit card, usury, rebate, loan, reduced rates, Fatwa on discount of debit cards

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.