عنوان: مصارف زکوٰۃ میں سے عاملین زکوٰۃ کا حکم (104047-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کے آسان ترجمہ قرآن میں سورہ توبہ آیت نمبر ساٹھ میں لکھا ہے کہ زکوة وصول کرنے والے اہلکار زکوة لے سکتے ہیں، براہ مہربانی واضح فرمائیں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اس آیت میں صدقات سے زکوة ہی مراد ہے یا کچھ اور؟

جواب: سورة التوبۃ کی آیت:
"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ".
(سورةالتوبہ: ٦٠)
اس آیت مبارکہ میں اللّٰہ تعالٰی نے بنیادی طور پر زکوٰۃ کے مصارف بیان فرمائے ہیں، یعنی اسلامی ریاست زکوٰۃ کو کس کس جگہ خرچ کر سکتی ہے، انہی مصارف میں سے ایک مصرف عاملین زکوٰۃ کا بھی ہے، یہ ایک سرکاری عہدہ ہے کہ ریاست زکوٰۃ کی وصولی کے لیے ان لوگوں کو مقرر کرتی ہے، تو ان لوگوں کے اخراجات یعنی تنخواہ وغیرہ اسی زکوٰۃ فنڈ سے پورے کیے جاتے ہیں۔
اور "صدقات" سے مراد یہاں زکوٰۃ اور صدقات واجبہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی التاتار خانیۃ:
"وأما العاملون فہم الذین نصبہم الإمام لاستیفاء صدقات المواشی، فیعطیہم مما فی یدہ من مال الصدقۃ ما یکفیہم وعیالہم".
(الفتاوی التاتار خانیۃ ، کتاب الزکاۃ ، الفصل الثامن من توضع فیہ الزکاۃ ، ط: کوئٹہ ۲/۲۶۸، رقم: ۴۱۲۳)

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 417
masaarif e zakat mai / main say aamileen zakat ka hukum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com