عنوان: والدین کو بتائے بغیر نکاح کرنا (4049-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرا رشتہ دو سال پہلے میری خالہ کی بیٹی سے دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوا اور الحمداللہ آج بھی قائم ہے، میرے بڑے بھائی اور بہن کی سال کے آخر میں شادی ہے جس کی وجہ سے میں فی الحال اپنا نکاح نہیں کر سکتا، لیکن مجھے اور میری منگیتر کو شبہ ہے کہ کہیں تاخیر کی وجہ سے لڑکی والے رشتہ توڑ نہ دیں، چنانچہ ہم دونوں نے نکاح کر لینے کا ارادہ کیا ہے، میرے خیال میں چونکہ ہم دونوں بالغ ہیں، اس لیے ہم دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں، براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا شرعاً ممنوع تو نہیں؟
مزید یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ رشتہ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہی ہوا تھا، صرف اب نکاح ان کی لا علمی میں ہو گا، تو اس سے نکاح میں کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟
یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ لڑکی اپنی طرف سے مجھے وکیل مقرر کر سکتی ہے یا جو میرے دو دوست گواہ بنیں گے، ان میں سے ہی کسی کو اپنا وکیل بنائے گی؟
اس بارے میں بھی آپ کی رہنمائی درکار ہے کہ کیوں کے لڑکی گھر سے بلا ضرورت نہیں نکل سکتی، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ نکاح کی مجلس میں، میں خود گواہوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں اور لڑکی کال پر ہمارے ساتھ شریک رہے، رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنے سے شرعاً کوئی خرابی تو پیدا نہیں ہو گی؟

جواب: واضح رہے کہ شریعت نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کے آپس میں ملنے جلنے کی اجازت نہیں دیتی، اس سے بچنا ضروری ہے۔
اگر عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کریں، تو نکاح منعقد ہو جائے گا، بشرطیکہ وہ دونوں (لڑکا، لڑکی) خاندان، نسب، مال اور دین کے اعتبار سے ایک دوسرے کا کفو (برابر) ہوں، لیکن اگر لڑکا اور لڑکی خاندان، نسب، مال اور دین کے اعتبار سے ایک دوسرے کا کفو (برابر) نہ ہوں، تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اسی وجہ سے اسلام نے خصوصا لڑکی کی حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کا اہتمام ولی (والدین ) کے سپرد کیا ہے،
لہذا لڑکی اور لڑکے کو والدین کی اجازت کے بغیر ہرگز کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے معاشرتی اور اخلاقی طور پر برا سمجھا جاتا ہو، کیونکہ نکاح کا مقصد دو خاندانوں کے درمیان محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا ہے،لیکن اس طرح کا اقدام باہمی منافرت اور ناچاقیوں کا سبب بن سکتا ہے، اسلئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مرقاۃ المفاتیح: (270/6، ط: دار الکتب العلمیة)
وقال ابن ھمام حاصل ما فی الولی من علماءنا سبع روایات رویتان عن أبي حنیفۃؒ احدھما تجوز مباشرۃ البالغۃ العاقلۃ عقد نکاحہا ونکاح غیرہا مطلقاً إلا أنہ خلاف المستحب وہو ظاہر المذہب وروایۃ الحسن عنہ ان عقدت مع کفوءجاز ومع غیرہ لا یصح واختیرت للفتوی لما ذکر من ان کم من واقع لایرفع۔

الدر المختار مع رد المحتار: (56/3، ط: دار الفکر)
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولي،
والأصل أن کل من تصرف في مالہ تصرف من نفسہ، ولہ أي للولي إذا کان عصبۃ الاعتراض في غیر الکفو۔

الھندیة: (292/1، ط: دار الفکر)
المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - ۔۔۔۔۔للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان في فصل شرائط النكاح وفي البزازية ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكرا كانت أو ثيبا على قول الإمام الأعظم وهذا إذا كان لها ولي فإن لم يكن صح النكاح اتفاقا۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 697 Apr 16, 2020
parents / waldain k0 bataye bagair nkkkah karna, Getting married / marriage without telling / informing the parents

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.