عنوان: کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم(100411-No)

سوال: ایک آدمی کریڈٹ کارڈ سے خریداری کرتا ہے، مگر وہ چالیس دن کے اندر ہی بینک کو رقم واپس کردیتا ہے۔ بینک کا اصول یہ ہے کہ چالیس دن سے پہلے یہ رقم واپس کردی جائے تو بینک سود نہیں لگاتا، مگر جس سے خریداری کی ہے، بینک اس سے ڈھائی فیصد چارجز کاٹتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خریداری ہی نہ کرے، بس ویسے ہی کسی شاپنگ مال سے جاکر کریڈٹ کارڈ سے پیسے لے لے، یہاں لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اگر کریڈٹ کارڈ سے کیش نکلوانا ہو تو شاپنگ مال والے اپنے چارجز رکھ کر رقم دیتے ہیں، خریداری ضروری نہیں ہے۔ کیا اس صورت میں وہ پیسے جو کریڈٹ سے ملے ہیں، وہ اپنے ذاتی کام کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، جبکہ بندے کا ارادہ چالیس دن سے پہلے ہی واپس کرنے کا ہے تاکہ سود نہ لگے؟

جواب: واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کا کوئی اکاؤنٹ بینک میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ معاہدہ ہی ادھار پر سود دینے کا ہوتا ہے۔ اس معاہدہ میں اگرچہ بینک ایک متعین مدت فراہم کرتا ہے کہ اگر اس متعین مدت کے اندر ادائیگی کردے تو سود نہیں دینا پڑے گا، لیکن اصلاً معاہدہ سود کی بنیاد پر ہوتا ہے اور سود کی ادائیگی کا وعدہ بھی کریڈٹ کارڈ ہولڈر کوکرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں تجدید مدت (Rescheduling) کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے، جس سے ادائیگی کی مدت بڑھ جاتی ہے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ شرح سود میں اضافہ ہوجاتا ہے اور بعض صورتوں میں اضافی رقم لے جاتی ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس کارڈ کا استعمال جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ڈیبٹ کارڈ، چارج کارڈ یا ادائیگی کا کوئی اور متبادل طریقہ نہ ہو تو کریڈٹ کارڈ کو اس شرط کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے کہ کارڈ ہولڈر معین وقت سے پہلے پہلے ادائیگی کردے اور کسی بھی وقت سود عائد ہونے کا کوئی بھی امکان باقی نہ رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (آل عمران، الآیۃ: 130)
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo

المعايير الشرعیۃ:
(1 / 11) بطاقة الائتمان المتجدد :(Credit Card) خصائص هذه البطاقة:
( أ ) هذه البطاقة أداة ائتمان في حدود سقف متجدد على فترات يحددها مصدر البطاقة، وهي أداة وفاء أيضًا.
( ب ) يستطيع حاملها تسديد أثمان السلع والخدمات، والسحب نقدا، في حدود سقف الائتمان الممنوح.
( ج ) في حالة الشراء للسلع أو الحصول على الخدمات يمنح حاملها فترة سماح يسدد خلالها المستحق عليه بدون فوائد، كما تسمح له بتأجيل السداد خلال فترة محددة مع ترتب فوائد عليه. أما في حالة السحب النقدي فلا يمنح حاملها فترة سماح.
( د ) ينطبق على هذه البطاقة ما جاء في البند 2/2 ه،۔۔۔۔۔۔ولا يجوز للمؤسسات إصدار بطاقات الائتمان ذات الدين المتجدد الذي يسدده حامل البطاقة على أقساط آجلة بفوائد ربوية.

البحر الرائق: (کتاب البیع، باب المتفرقات، 312/6، ط: زکریا)
وما لا یبطل بالشرط الفاسد القرض بأن أقرضتک ہذہ المأة بشرط أن تخدمني شہرًا مثلاً فإنہ لا یبطل بہذا الشرط وذلک لأن الشروط الفاسدة من باب الربا وأنہ یختص بالمبادلة المالیّة، وہذہ العقود کلہا لیست بمعاوضة مالیة فلا توٴثر فیہا الشروط الفاسدة الخ

کذا فی تبویب فتاوی دار العلوم کراتشی: 1902/57

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 263
Credit Card Kay Istemal ka hukm, Credit Card Ka Istemal Karna Kaisa Hai, Credit Card Ka Istemal Kya Jayez Hai, Ruling on use of Credit Car, Are credit cards halal or haram, Why is credit card Haram, Fatwa on credit card, Use of Credit card in Islam

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.