سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب ! کیا یاد رکھنے کی غرض سے عورت تراویح میں قرآن سنا سکتی ہے؟
جواب: تراویح یا کسی بھی نماز میں عورتوں کا تنہا جماعت کرانا مکروہ تحریمی ہے، لہذا عورتوں کو تنہا طور پر جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھنی چاہیے۔
قرآنِ کریم کو یاد رکھنے کے لیے دیگر بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں، اپنی روزانہ کی نفل نمازوں میں قرآن پاک پڑھتی رہے، اسی طرح دوسری عورتوں یا محرم مردوں کو نماز کے علاوہ سناتی رہے، نیز اپنی تراویح کی نماز میں بھی تنہا پڑھتی رہے، یہی مناسب اور بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
إعلاء السنن: (226/4)
عن عائشة أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لاخیر في جماعة النساء إلا في المسجد أو في جنازة قتیل''۔ (رواه أحمد والطبراني في الأوسط) إلا أنه قال: لا خیر في جماعة النساء إلا في مسجد جماعة
'' فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة''۔
و فیه ایضاً: (227/4، ط: دار الکتب العلمیة)
''عن علی بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. قلت: رجاله کلهم ثقات''۔
الدر المختار مع رد المحتار: (566/1، ط: دار الفکر)
''ویکره تحریماً جماعة النساء ولو التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن، فلو قدمت أثمت،
أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لا تزول الکراهة، وإنما أرشد والی التوسط لأنه أقل کراهة التقدم''۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی